Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

مہاجرین کی نصرت

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

اس لیے آپ مکہ والوں کو ولیمہ نہ کھلا سکے جو در حقیقت ان کی تالیف قلب کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا تھا۔ خالد بن ولید اور عمروبن العاص دونوں ایک ساتھ مسلمان ہوئے تھے۔ جب وہ مدینہ پہنچے تو ان کو دیکھ کر ایک شخص چیخ پڑا: ان دو کے بعد مکہ نے اپنی نکیل دے دی (قَدۡ أَعْطَتۡ مَكَّةُ ٱلْمِقَادَةَ بَعْدَ هَذَيۡنِ) مغازی الواقدی، جلد 2، صفحہ 744۔ ام حبیبہ بنت ابوسفیان اور ان کے شوہر عبید اللہ بن جحش نے اسلام قبول کر لیا تھا اور دونوں ہجرت کر کے حبش چلے گئے۔ وہاں ان کے شوہر نے نصرانیت اختیار کر لی، اس کے بعد جلد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ آپ نے ام حبیبہ سے نکاح کا منصوبہ بنایا۔ اس طرح آپ ابوسفیان کے داماد ہو جاتے جو بدر میں ابو جہل کے قتل ہو جانے کے بعد مکہ کے سب سے بڑے لیڈر تھے۔ اس کے لیے آپ نے غائبانہ نکاح کا انتظام کیا۔ کیونکہ اندیشہ تھا کہ اگر أم حبیبہ حبش سے مکہ واپس آگئیں تو ان کا باپ آپ سے نکاح نہ ہونے دے گا۔ ام حبیبہ سے آپ کا نکاح غائبانہ طور پر نجاشی (بادشاه حبش ) نے پڑھایا۔ اس کے بعد وہ سیدھے مدینہ بھیج دی گئیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے بعد ابو سفیان کی مخالفت کمزور پڑ گئی۔ یہاں تک کہ فتح مکہ سے ایک دن پہلے انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس حکمت کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو قرآن کے الفاظ میں’’ارھاب‘‘ کی پالیسی کہہ سکتے ہیں۔ یعنی طاقت کے استعمال کے بجائے طاقت کے مظاہرہ کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ احد (3 ھ) کی شکست مسلمانوں کے لیے مکمل شکست بن سکتی تھی اگر ابوسفیان اپنی فوج کو لے کر واپس نہ ہو جاتا اور اگلے روز دوبارہ حملہ کرتا۔ چنانچہ روحا کے مقام پر پہنچ کر ابوسفیان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، اور وہ اپنی فوج کو دوبارہ مدینہ کی طرف واپس لوٹانے کا ارادہ کرنے لگا۔ مگر اس سخت ترین انتشار کی حالت میں بھی پیغمبر اسلام کا جنگی اطلاعات کا نظام اتنا مکمل تھا کہ آپ کو فوراً ابوسفیان کے ارادہ کی خبر ہو گئی۔ آپ نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page