مہاجرین کی نصرت
Urdu book, p. 222
By Maulana Wahiduddin Khan
اقدام کا فیصلہ کیا۔ آپ نے اپنی زخمی فوج کو منظم کر کے فوراً مکہ کی طرف کوچ کر دیا اور حمراء الاسد تک پہنچ گئے جو مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ آپ کا یہ سفر پورے اعلان واظہار کے ساتھ تھا جب کہ عام طور پر آپ نہایت خاموشی کے ساتھ کوچ کیا کرتے تھے۔ ابوسفیان کو خبر ہوئی تو اس نے سمجھا کہ آپ کو مزید کمک آگئی ہے۔ وہ واپسی کا ارادہ ترک کر کے مکہ کی طرف روانہ ہو گیا جب آپ کو اطمینان ہو گیا کہ ابوسفیان کی فوج واپس ہو چکی ہے تو آپ مدینہ لوٹ آئے۔ غزوہ موتہ (جمادی الاول 8ھ) کے اگلے سال قیصر روم نے سرحد شام پر فوجی تیاریاں شروع کر دیں۔ اس کے ماتحت غسانی اور دوسرے عرب سردار بھی فوج اکٹھا کرنے لگے۔ اس کے جواب میں آپ 30 ہزار کا لشکر لے کر نکلے جس کو غزوہ تبوک ( رجب 9ھ) کہا جاتا ہے۔ تبوک کا غزوہ حقیقتاً ایک جنگی تدبیر تھی جس کا مقصد دشمن کے اقدام سے پہلے اقدام تھا، تاکہ دشمن مرعوب ہو کر اقدام کا حوصلہ کھو دے۔ چنانچہ تبوک کے مقام پر پہنچ کر جب معلوم ہوا کہ قیصر نے مقابلہ کے لیے بڑھنے کے بجائے سرحد سے اپنی فوجیں ہٹانی شروع کر دی ہیں تو آپ نے بھی جنگی ٹکراؤ کا ارادہ ترک کر دیا۔ البتہ قیصر کے ہٹ جانے سے آپ کو جو اخلاقی فتح حاصل ہوئی تھی اس سے آپ نے سیاسی فائدہ اٹھانے کا منصوبہ بنایا۔ آپ نے تبوک میں ہیں دن ٹھہر کر سرحد کے ان قبائل سے رابطہ قائم کیا، جو اس وقت تک رومیوں کے زیر اثر تھے۔ اس سلسلہ میں دومۃ الجندل کے عیسائی رئیس اُکیدر بن عبد الملک کُندی، ایلہ کے عیسائی یوحنا بن روبہ، اور اسی طرح مقنا۔ جر باء اور اذ رح کے نصرانی روسانے بھی جزیہ ادا کر کے مدینہ کی ماتحتی قبول کی۔ ابو بکر صدیق کی خلافت کے بعد جیش اسامہ کی روانگی بھی اسی قسم کا ایک واقعہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قبیلہ طے کے سوا مدینہ کے اطراف کے تمام عرب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader