Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

مہاجرین کی نصرت

Urdu book, p. 223

By Maulana Wahiduddin Khan

قبائل باغی ہوگئے۔ اپنی تعداد کی کمی اور دشمن کی کثرت کی وجہ سے مسلمانوں کا حال ایسا ہورہا تھا جیسے”جاڑے کی بارش میں بھیگی ہوئی بکری“ (کَالغَنَمِ المَطِیرَةِ فِي اللَّيْلَةِ الشَّاتِيَةِ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 665۔ اس وقت بظاہر حالات کا تقاضا تھا کہ اندرونی دشمنوں کو زیر کرنے کے لیے اپنی طاقت کو محفوظ رکھا جائے۔ مگر پیغمبر کے فیصلہ پر قائم رہتے ہوئے خلیفہ اول نے طے کیا کہ اسامہ کے لشکر کو جو سات سوافراد پرمشتمل تھارومیوں کے مقابلہ کے لیے شام روانہ کر دیں۔ اس اقدام کا جواثر پڑا وہ حضرت ابو ہریرہ کے الفاظ میں یہ ہے: فَجَعَلَ لَا يَمُرُّ بِقَبِيلٍ يُرِيدُونَ الِارْتِدَادَ إِلَّا قَالُوا: لَوْلَا أَنَّ لَهْؤُلَاءِ قُوَّةً مَا خَرَجَ مِثْلُ هَؤُلَاءِ مِنْ عِنْدِهِمْ، وَلَكِنْ نَدَعُهُمْ حَتَّى يَلْقَوْا الرُّومَ، فَلَقُوا الرُّومَ فَهَزَمُوْهُمْ وَقَتَلُوْهُمْ، وَرَجَعُوا سَالِمِينَ، فَثَبَتُوا عَلَى الإِسْلَامِ (الاعتقاد للبیهقی، صفحه 406)۔ اسامہ کا لشکر جب ان قبیلوں پر سے گزرتا جو مرتد ہونا چاہ رہے تھے، وہ کہتے کہ اگر مسلمانوں کے پاس قوت نہ ہوتی تو اس قسم کی فوج ان کے پاس سے روانہ نہ ہوتی۔ ہم ابھی انہیں چھوڑ دیں اور روم سے لڑنے دیں، چنانچہ وہ رومیوں سے لڑے اور انہیں شکست دی اور انہیں قتل کیا اور سلامتی کے ساتھ واپس آئے۔ یہ دیکھ کر ارتداد کا ارادہ کرنے والے بھی اسلام پر جم گئے۔ آپ مدینہ پہنچے تو وہاں مشرکین کی ایک مختصر اقلیت کو چھوڑ کر دو بڑے گروہ آباد تھے_ یہود اور مسلمان۔ پھر یہ بھی مختلف ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے تھے جن کے درمیان کوئی اتفاق نہ تھا۔ لوگ نفسیاتی طور پر ایک ایسے شخص کے منتظر تھے جو ان کے درمیان اتحاد اور نظم پیدا کردے۔ آپ نے اس صورت حال کا اندازہ کر کے اپنی طرف سے ایک صحیفہ (نہ کہ معاہدہ) جاری کر دیا جس میں یہود اور مسلمانوں کو مستقل حیثیت سے تسلیم کیا گیا تھا (إِنَّهُمْ أُمَّةٌ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page