Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

مہاجرین کی نصرت

Urdu book, p. 224

By Maulana Wahiduddin Khan

وَاحِدَةً مِنْ دُونِ النَّاسِ ... وَإِنَّ يَهُودَ ... أُمَّةً مَعَ الْمُؤْمِنِينَ، لِلْيَهُودِ دِينُهُمْ، وَلِلْمُسْلِمِينَ دِينُهُمْ) اس صحیفہ میں دونوں کے مروجہ حقوق اور ذمہ داریوں کو چھیڑے بغیر انہیں ایک قابل قبول شکل میں تسلیم کر لیا گیا۔ اور اس کے بعد ایک دفعہ ان لفظوں میں شامل کر دی گئی: وَإِنَّكُمْ مَهْمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ، فَإِنَّ مَرَدَّهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِلَى مُحَمَّدٍ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 3-501) یعنی، اور جب بھی تم میں کسی معاملہ میں کوئی اختلاف ہو تو وہ معاملہ خدا اور رسول کی طرف لوٹے گا۔ اس طرح یہ صحیفہ گویا ایک قسم کا سیاسی اقدام تھا جس کے ذریعہ آپ نے انتہائی حکیمانہ طور پر مدینہ کے اوپر اسلام کی دستوری حکومت کا اعلان کر دیا۔ آپ کے مدینہ پہنچنے کے بعد قریش کا غصہ کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گیا۔ کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ سارے مسلمانوں نے سمٹ کر ایک مقام پر اپنا مضبوط مرکز بنا لیا ہے۔ ہجرت کے دوسرے ہی سال آپ کے سامنے یہ نازک صورت حال آئی کہ یا تو آگے بڑھ کر قریش کے لشکر کا مقابلہ کریں یا اس کو موقع دیں کہ وہ مدینہ میں گھس آئے اور اسلام کے بنتے ہوئے آشیانہ کو منتشر کر دے۔ اگرچہ قریش کے لشکر کی تعداد ساڑھے نو سو اور مسلمانوں میں قابل جنگ افراد کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی۔ مگر آپ نے اپنے پیغمبرانہ تدبر سے یہ سمجھا کہ اہل شرک اپنی کثرت کے باوجود صرف نفرت اور حسد کا منفی سرمایہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، مسلمانوں کے پاس ایمان و یقین کا مثبت خزانہ ہے جو اول الذکر سے بدر جہا زیادہ طاقت ور ہے۔ اس کے علاوہ عرب اپنے جاہلی پرائڈ (pride) کے تحت اکیلے اکیلے لڑتے تھے تا کہ ہر شخص اپنا منفرد کمال دکھائے اور بہادر مشہور ہو۔ مسلمان اللہ پر ایمان لا کر اپنے اندر کیم زوری ختم کر چکے تھے۔ آپ نے انہیں عرب تاریخ میں پہلی بار مورچہ بندی کی تلقین کی۔ آپ نے انہیں سکھایا کہ ذاتی کمال دکھانے کا شوق نہ کرو، بلکہ دستہ بنا کر لڑو۔ قریش کی انفرادی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page