Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

پیغمبرِ انقلاب

Urdu book, p. 225

By Maulana Wahiduddin Khan

طاقت کو اپنی اجتماعی طاقت سے شکست دو (الصّف ، 4:61)— ایمان اور مورچہ بندی کی طاقت سے وہ عظیم الشان واقعہ وجود میں آیا، جس کو اسلام کی تاریخ میں بدر کی فتح کہتے ہیں۔ فتح اسلام بدر کی شکست نے دوبارہ قریش کو بھڑکایا یا اور مختصری مدت میں ان سے کئی معرکے پیش آئے، جن میں احد (3ھ) اور احزاب (5ھ) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان غزوات میں مسلمانوں کو شدید ترین مصائب پیش آئے۔ غزوہ خندق میں 800 آدمی تھے۔ مگر سردی اور بھوک اور تکان کا عالم یہ تھا کہ جب آپ نے دشمن کی جاسوسی کے لیے ایک شخص کو بھیجنا چاہا تو تین بار آواز دینے کے بعد بھی کوئی نہ اٹھا، یہاں تک کہ آپ حضرت حذیفہ کے پاس آئے اور نام لے کر ان کو بلایا اور ان کو اس کام پر متعین کیا۔ دوسری طرف مدینہ کے یہود ایک مستقل اندرونی مسئلہ بنے ہوئے تھے۔ قریش سے مل کر دونوں کے درمیان اسلام کے خلاف سازشیں جاری رہتی تھیں۔ خندق کے 20 روزہ محاصرہ کے بعد جب ایک شدید آندھی سے مجبور ہو کر قریش کی فوج مکہ واپس ہوئی تو آپ نے اس موقع کو مدینہ کے اندرونی یہودیوں سے نمٹنے کے لیے موزوں تریں سمجھا جس میں ان یہودیوں کی سازش اور بغاوت برہنہ ہو کر سامنے آ چکی تھی۔ آپ نے مدینہ کے ایک یہودی قبیلہ بنو قریظہ کو خندق سے لوٹتے ہی فوراً گھیر لیا اور ان پر خود ان کی کتاب تو رات کے قانون کو جاری کر کے ان کے مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ اب مسئلہ خیبر کا تھا۔ ہجرت کے چھٹے سال یہ صورت حال تھی کہ درمیان میں مدینہ کا دارالاسلام تھا اور جنوب میں چار سو کلومیٹر کے فاصلہ پر مکہ کے قریش تھے اور شمال میں دو سو کلو میٹر کے فاصلے پر خیبر کے یہودی ۔ قریش اور یہودی، اسلام دشمنی میں متفق الرائے ہونے کے باوجود، اکیلے اکیلے اتنے طاقت ور نہ تھے کہ تنہا اسلام کو ختم کرنے کا حوصلہ کر سکیں۔ اسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page