فتح اسلام
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے ان کے درمیان مشترکہ جنگی اقدام کی سازشیں چل رہی تھیں۔ دوسری طرف مسلمان بھی اس پوزیشن میں نہ تھے کہ بیک وقت اپنے دونوں دشمنوں کا مقابلہ کرسکیں۔ ان حالات میں آپ نے ربانی تدبر کے تحت ذی قعدہ 6ھ میں اپنے ڈیڑھ ہزار اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرف کوچ کر دیا، اور اعلان فرمایا کہ ہم کسی کے خلاف جنگ کے لیے نہیں جا رہے ہیں، بلکہ عمرہ کرنے کے لیے جا رہے ہیں۔ قربانی کے جانوروں کا قافلہ بھی آپ نے اپنے ساتھ لے لیا۔ حتیٰ کہ زمانہ جاہلیت کی رسم کے مطابق اونٹوں کو قربانی کا نشان (قلادہ) بھی پہنانے کا حکم دیا تا کہ مکہ والوں کو بخوبی معلوم ہو جائے کہ آپ زیارتِ کعبہ اور قربانی ہی کے لیے آئے ہیں۔ اس سفر کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ قریش پر اس بات کا مظاہرہ ہو کہ آپ کا مقصد کعبہ کی مذہبی یا تجارتی حیثیت کو ختم کرنا نہیں ہے۔ مکہ سے تقریباً گیارہ کلومیٹر کے قریب حدیبیہ کے مقام تک پہنچے تھے کہ حسب توقع قریش نے آگے بڑھ کر روکا۔ آپ نے جھگڑے سے بچتے ہوئے وہیں پڑاؤ ڈال دیا اور قریش کو پیغام بھیجا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان صلح کا معاہدہ ہو جائے: اِنَّا لَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ اَحَدٍ، وَلَکِنَّا جِئْنَا مُعْتَمِرِیْنَ، وَاِنَّ قُرَیْشًا قَدْ نَهَکَتْهُمُ الْحَرْبُ، وَاَضَرَّتْ بِهِمْ، فَاِنْ شَاءُوْا اَمَادَدْتُهُمْ مُدَّةً، وَّیَخْلُوْا بَیْنِیْ وَبَیْنَ النَّاسِ، فَاِنْ اَظْهَرُ: فَاِنْ شَاءُوْا اَنْ یَّدْخُلُوْا فِیْمَا دَخَلَ فِیْهِ النَّاسُ فَعَلُوا، وَاِلَّا فَقَدْ جَمُّوْا، وَاِنْ هُمْ اَبَوْا، فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِهِ لَاُقَاتِلَنَّهُمْ عَلَى اَمْرِيْ هَذَا حَتَّى تَنْفَرِدَ سَالِفَتِيْ، وَلَیُنْفِذَنَّ اللَّهُ اَمْرَهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731)۔ یعنی، ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں، بلکہ صرف عمرہ کے لیے آئے ہیں۔ جنگ نے قریش کا برا حال کر دیا ہے اور ان کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو میں ان کے لیے ایک مدت ( جنگ نہ کرنے کی) مقرر کردوں اور وہ میرے اور لوگوں کے درمیان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader