فتح اسلام
Urdu book, p. 227
By Maulana Wahiduddin Khan
سے ہٹ جائیں۔ اگر میں غالب رہوں تو وہ چاہیں تو اس دین میں داخل ہو جائیں گے جس میں لوگ داخل ہوئے ، اور مجھے غلبہ نہ ہواتو ان کا مدعا حاصل ہے۔ اور اگر قریش نے اس سے انکار کیا تو اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، میں اس معاملہ میں ان سے لڑوں گا خواہ میری گردن الگ ہو جائے اور اللہ کا امر پورا ہو کر رہے گا۔ یہ پیغام در حقیقت خود قریش کے اندر موجود ایک فکر سے فائدہ اٹھانا تھا۔ مکہ کے ابتدائی دور میں جب عتبہ بن ربیعہ قریش کے ایک نمائندہ کی حیثیت سے آپ سے ملا اور آپ سے گفتگو کے بعد قریش کی طرف لوٹا تو ایک روایت کے مطابق اس نے جو باتیں قریش سے کہیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی: وَاتْرُكُوا الرَّجُلَ وَاعْتَزِلُوهُ فَوَ اللهِ مَا هُوَ بِتَارِكِ مَا هُوَ عَلَيْهِ وَخَلُّوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَائِرِ الْعَرَبِ فَإِنْ يَظْهَرُ عَلَيْهِمْ يَكُنْ شَرَفُهُ شَرَفَكُمْ وَعِزُّهُ عِزَّكُمْ وَإِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْهِ تَكُونُوا قَدْ كَفَيْتُمُوهُ بِغَيْرِكُمْ (دلائل النبوة لابي نعيم الاصبهاني، حدیث نمبر (185) یعنی اس آدمی کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ خدا کی قسم وہ اپنی بات سے باز آنے والا نہیں۔ تم ان کے اور تمام عرب کے درمیان سے ہٹ جاؤ۔ اگر وہ عرب پر غالب آگئے تو ان کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور اگر وہ مغلوب ہوگئے تو تم دوسروں کے ہاتھوں ان سے نجات پالو گے۔ یہ فکر جو خود قریش کے اندر دبا ہوا موجود تھا۔ اسی کو آپ نے استعمال کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود دشمن کے اندر آپ کو اپنے نقطہ نظر کے حامی مل گئے۔ ایک طرف آپ نے یہ پیغام کہلایا۔ دوسری طرف قریش کو مختلف طریقوں سے متاثر کرنے کا عمل بھی شروع ہو گیا۔ بنی کنانہ کا ایک شخص، حُلَیس بن علقمہ الکنانی مکہ سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader