Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

فتح اسلام

Urdu book, p. 228

By Maulana Wahiduddin Khan

روانہ ہو کر حدیبیہ پہنچاتا کہ یہ معلوم کرے کہ مسلمان کس لیے آئے ہیں لوگوں نے آپ کو اطلاع دی تو آپ نے فرمایا کہ اس شخص کے قبیلہ میں قربانی کے اونٹوں کی تعظیم کی جاتی ہے تم لوگ اپنے قربانی کے اونٹوں کو لے کر اس کا استقبال کرو (ھَذَا مِنْ قَوْمٍ يَتَأَلَّهُونَ، فَابْعَثُوا الْهَدْيَ فِي وَجْهِہ)۔ مسلمانوں نے اونٹوں کا قافلہ بنایا اور لبیک اللّٰہم لبیک پڑھتے ہوئے اس کے سامنے سے گزرے۔ یہ شخص مکہ واپس ہوا تو بہت متاثر تھا۔ اس نے قریش سے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ مسلمان صرف زیارت کعبہ کی غرض سے آ رہے ہیں انہیں روکا نہ جائے (مسند احمد، حدیث نمبر 18910)۔ اسی طرح ڈیڑھ ہزار مسلمانوں کے ایمان و اسلام کا مظاہرہ بھی انہیں شدید طور پر متاثر کرتا تھا۔ قریش کا ایک سفیر جب حدیبیہ پہنچا تو مسلمان صف بندی کر کے رسول اللہ کی امامت میں نماز پڑھ رہے تھے۔ نماز کے نظم و ضبط کا منظر دیکھ کر وہ اتنا مرعوب ہوا کہ واپس ہو کر قریش سے کہا کہ مسلمانوں کا اتحاد اتنا زبردست ہے کہ ساری کی ساری قوم محمد کے ایک اشارے پر حرکت کرتی ہے۔ ایک سفیر نے دیکھا کہ پیغمبر اسلام جب وضو کرتے ہیں تو مسلمان دوڑتے ہیں کہ ان کے غسالہ کو زمین پر گرنے سے پہلے اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔ جب وہ بولتے ہیں تو سب کی آوازیں پست ہو جاتی ہیں۔ وہ ادب و تعظیم کی وجہ سے ان کی طرف دیکھتے تک نہیں۔ سفیر نے واپس ہو کر قریش سے مسلمانوں کی اس وفاداری اور محبت کا ذکر کیا تو وہ سخت مرعوب ہوئے۔ بدیل بن ورقا الخزاعی کے ذریعہ جب مذکورہ پیغام قریش کو پہنچا تو ان کے ایک شخص (عروہ بن مسعود) نے تقریر کی: فَقَامَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ، فَقَالَ: أي قوم أَلَسْتُ بِالْوِالِدِ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: أَلَسْتُمْ بِالْوَلَدِ، قَالُوا: بَلَى قَالَ: فَهَلْ تَتَّهُمُونِي، قَالُوا: لَا، قَالَ: فَإِنَّ هَذَا قَدْ عَرَضَ عَلَيْكُمْ، خُطَّةَ رُشْدٍ، فَاقْبَلُوهَا، وَدَعُونِي آتِيِہ (البدايه والنهايه، جلد 4، صفحہ 174)۔ یعنی، اے میری قوم! کیا تم میں سے کچھ لوگ میرے والد کے برابر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page