Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

فتح اسلام

Urdu book, p. 229

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں ۔ لوگوں نے کہا کیوں نہیں ، عروہ نے کہا ، کیا تم میں سے کچھ میری اولاد کے برابر نہیں ۔ لوگوں نے کہا کیوں نہیں ۔ عروہ نے کہا کیا تمہیں میرے اوپر کوئی شک ہے ۔ لوگوں نے کہا نہیں ۔ عروہ نے کہا اس آدمی نے تمہارے سامنے ایک بہترین تجویز پیش کی ہے ، تم اس کو مان لو اور مجھے جانے دو کہ میں ان سے بات کروں۔ آپ نے اعلان کر دیا کہ قریش جس چیز کا بھی مطالبہ کریں گے ، میں اس کو مان لوں گا ( وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا ) ۔ تاہم نا جنگ معاہدہ لکھا جانے لگا تو انہوں نے طرح طرح سے حمیت جاہلیت کا مظاہرہ کیا۔ معاہدہ کے مسودہ سے ” محمد رسول اللہ “ کو مٹا کر محمد بن عبد اللہ لکھوایا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بجائے باسْمِكَ اللَّهُمَّ لکھنے پر اصرار کیا۔ یہ دفعہ بڑھائی کہ قریش کا کوئی آدمی مسلمانوں کے ہاتھ لگے تو وہ اس کو واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس کے برعکس ، کوئی مسلمان قریش کے ہاتھ لگ جائے تو وہ اس کو واپس نہیں کریں گے۔ اس کی اجازت نہ دی کہ مسلمان اس سال مکہ جا کر عمرہ کریں۔ سارے صحابہ کے لیے یہ شرطیں انتہائی گراں ہو رہی تھیں۔ حتی کہ ایک موقع پر جب عروہ بن مسعود نے کہا اے محمد ! یہ جو ادھر اُدھر کے لوگ آپ نے اپنے گرد جمع کر رکھے ہیں، یہ سب آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے (إِنِّي لَأُرَىٰ أَوْ شَابًّا مِنْ النَّاسِ خَلِيقًا أَنْ يَفِرُّوا وَيَدَعُوكَ ) ۔ اس کو سن کر ابو بکر جیسا سنجیدہ آدمی بھی غصہ میں آگیا۔ ان کی زبان سے نکلا : اُمْصُصْ بِبَظْرِ اللاَّتِ ، أَنَحْنُ نَفِرُّ عَنْهُ وَنَدَعُهُ؟ ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 2731 ) ۔ یعنی ، تو لات کی شرم گاہ چوس ، کیا ہم آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ مگر خدا کا رسول ہر قسم کی اشتعال انگیز باتوں کو برداشت کرتا رہا اور قریش کے ہر مطالبہ کو مان کر ان سے دس سال کے لیے ناجنگ معاہدہ کر لیا۔ اب قریش پابند ہو گئے کہ وہ دس برس تک بالواسطہ یا براہ راست کسی ایسی جنگ میں حصہ نہ لیں جو مسلمانوں کے خلاف ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page