نبوتِ محمدی کا ظہور
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
والا ہے۔ آپ کے ساتھی جن کا حال یہ تھا کہ ان کے گھروں کو اجاڑ دیا گیا، جن کے لیے زمین تنگ کر دی گئی، جن کی معاشیات تباہ کر دی گئیں، جن کو اس قدر خوف وہراس میں مبتلا کیا گیا کہ ان کو ہر وقت یہ اندیشہ لگا رہتا کہ لوگ انہیں اچک لیں گے، ان کو عزت اور اقتدار کے تخت پر بٹھا دیا گیا۔ دوسری طرف قریش اور یہود، رومی اور ایرانی، یمنی اور غسانی، جو دولت اور اقتدار کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، ان کو ذلیل کر کے پستی کے گڑھے میں ڈال دیا گیا۔ ہر نبی جو خدا کی طرف سے آتا ہے، وہ زمین پر خدا کی عدالت ہوتا ہے۔ اس کی معرفت خدا اپنے ان فیصلوں سے لوگوں کو باخبر کرتا ہے جس کو وہ آخرت میں براہ راست خود سنانے والا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام کے ذریعہ یہ عدالت الہی ایسی خصوصی شکل میں ظاہر ہوئی کہ وہ خود تاریخ انسانی کا جز بن گئی۔ جس طرح بہت سے دوسرے انسانی تجربات تاریخی حقیقت کا درجہ اختیار کر چکے ہیں، اسی طرح یہ واقعہ بھی ایک تاریخی حقیقت کی حیثیت سے انسانی معلومات میں ثبت ہو چکا ہے کہ خدا اپنے متقی بندوں کو سرفراز کرتا ہے اور جو لوگ سرکشی اختیار کریں، ان کو ذلت و بربادی کے دائمی عذاب میں دھکیل دیتا ہے۔ جنت اور جہنم اگر چہ دوسری دنیا میں قائم ہونے والی حقیقتیں ہیں، مگر انسان کی نصیحت کے لیے اللہ نے اس کا ایک ابتدائی منظر اسی دنیا میں لوگوں کو دکھادیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نبوت محمدی کا ظہور، خدا کی خدائی کا ظہور تھا، اسی لیے انجیل میں اس کو خدا کی بادشاہت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آپ کے لائے ہوئے انقلاب کی بلاشبہ سیاسی اور عمرانی اہمیت بھی ہے اور دوسری بہت سی اہمیتیں بھی۔ مگر اس کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ وہ انسان کو خدا کے جلال کا مشاہدہ کراتا ہے۔ وہ خدا کی عدالت کا منظر دکھارہا ہے، اس نے ان حقیقتوں کو آخرت سے پہلے انسان کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے جن کو انسان آخرت میں اپنی کلی شکل میں دیکھے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader