Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

فتح اسلام

Urdu book, p. 230

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ معاہدہ جو مسلمانوں پر اتنا سخت تھا کہ اس کی تکمیل کے بعد جب آپ نے لوگوں سے قربانی کرنے کو کہا تو تین بار اعلان کرنے کے باجود کوئی ایک شخص قربانی کے لیے نہ اٹھا۔ اس کے بعد اٹھے بھی تو غم کا یہ حال تھا کہ قربانی کے بعد سر مونڈنے لگے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کو کاٹ ڈالیں گے ( وَ جَعَلَ بَعْضُهُمْ يَحْلِقُ بَعْضًا حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يُقْتِلُ بَعْضًا غَمَّا ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731۔ مگر دب کر کیے جانے والے اس معاہدہ کے اتنے عظیم الشان فائدے ہوئے جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ صلح حدیبیہ کے وقت مسلمانوں کے دو طاقت ور حریف تھے، ایک خیبر کے یہودی، دوسرے مکہ کے قریش۔ مسلمان ابھی اتنے طاقت ور نہ ہوئے تھے کہ بیک وقت دونوں سے نمٹ سکیں۔ ایک پر حملہ کرنا گویا دوسرے کو موقع دینا تھا کہ وہ پیچھے سے آ کر مدینہ میں گھس جائے اور مسلمانوں کے مرکز کو برباد کردے۔ آپ نے یہ کیا کہ قریش مکہ کے سارے مطالبات منظور کر کے ان کو دس سال تک کے ’’ناجنگ معاہدہ‘‘ پر راضی کر لیا۔ اور اس طرح انہیں ’’بطن مکہ‘‘ میں روک دیا (الفتح، 48:24)۔ اس کے بعد مدینہ واپس آ کر پہلی فرصت میں خیبر پر حملہ کر کے یہودی مسئلہ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔ پہلا واقعہ ذی قعدہ 6ھ میں ہوا اور دوسرا محرم 7ھ میں۔ خیبر میں یہودیوں کے آٹھ پتھر کے قلعے تھے جن میں 20 ہزار جنگجو ایسے ہتھیاروں کے ساتھ موجود تھے جن سے اسلامی فوج بالکل خالی تھی۔ ان قلعوں کے استحکام کے لیے وہی طریقہ اختیار کیا گیا تھا جس کو 1700ء میں فرانس کے فوجی انجینئر مارشل دابان (1633-1707ء) نے اختیار کر کے شہرت پائی۔ اس مضبوط اور مسطح شہر کو کس طرح فتح کیا گیا، یہ بذات خود ایک طویل داستان ہے۔ اس موقع پر جو حیرت انگیز جنگی حکمت عملی اختیار کی گئی، اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہ واقعہ کافی ہے کہ قلعوں کا پھاٹک توڑنے کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page