فتح اسلام
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے یہ کیا گیا کہ بھاری درخت کا تنہ لے کر پچاس آدمی دوڑتے تھے اور اس کو تیزی سے قلعہ کے پھاٹک پر مارتے تھے، چند بار ایسا کرنے سے قلعہ کا دروازہ ٹوٹ جاتا تھا اور اس کے بعد تیروں اور منجنیقوں کے طوفان میں مسلمان قلعہ کے اندر گھس جاتے۔ اس طرح چار قلعے مسخر ہوئے تھے کہ بقیہ نے مرعوب ہو کر خود سے اپنے دروازے کھول دیے اور اپنے کو اسلامی فوج کے سپرد کر دیا۔ خیبر کی تسخیر کے بعد اب قریش مکہ کا مسئلہ تھا۔ آپ کی فراست ربانی نے بتایا کہ اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ دشمن کو موقع دیا جائے کہ وہ کوئی غلطی کرے تا کہ آپ کے لیے مداخلت جائز ہو جائے۔ آپ جانتے تھے کہ قریش کو جس چیز نے اسلام کے خلاف برانگیختہ کر رکھا ہے، وہ بغض، حسد، اقتدار پرستی اور گھمنڈ کے سوا کچھ نہیں ہے اور جو لوگ اس قسم کی نفسیات کے تحت کسی چیز کی مخالفت کریں وہ اپنے آپ کو غیر منطقی اور غیر اخلاقی کار روائیوں سے باز نہیں رکھ سکتے۔ اندازہ نہایت صحیح نکلا۔ قبیلہ خزاعہ اور قبیلہ بنی بکر کی جنگ (شعبان 8 ھ) میں قریش نے در پردہ اپنے حلیف قبیلہ (بنو بکر) کی حمایت میں مسلمانوں کے حلیف قبیلہ (بنو خزاعہ) کے خلاف چڑھائی کر کے یہی غلطی کی۔ یہ معاہدۂ صلح کی صریح خلاف ورزی تھی۔ یہ صلح حدیبیہ کے دو برس بعد کا واقعہ ہے۔ اس صلح کے نتیجہ میں اس مدت میں اسلام اتنا بڑھ چکا تھا کہ صلح حدیبیہ کے وقت اگر آپ کے ساتھ ڈیڑھ ہزار مرد تھے تو اب ان کی تعداد دس ہزار ہو چکی تھی۔ آپ نے خاموشی کے ساتھ مکہ کی طرف مارچ کر دیا۔ یہ سب کچھ اتنی حکمت اور تدبر کے ساتھ ہوا کہ تقریباً خون بہائے بغیر مکہ فتح ہو گیا: وَعَدَكُمُ اللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ وَكَفَّ أَيْدِيَ النَّاسَ عَنْكُمْ (48:20)۔ یعنی، اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کیا ہے جن کو تم لو گے، پس یہ اس نے تم کو فوری طور پر دے دیا۔ اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیے ۔ معاہدہ کے وقت صورت حال یہ تھی کہ تقریباً 20 برس کی مسلسل تبلیغی جد و جہد کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader