فتح اسلام
Urdu book, p. 232
By Maulana Wahiduddin Khan
ذریعہ اسلام کی آواز سارے عرب میں پھیل چکی تھی۔ ہر قبیلہ میں بے شمار ایسے لوگ وجود میں آچکے تھے جن کے دلوں میں اسلام کی صداقت نے اپنی جگہ بنائی تھی۔ مگر اس وقت کے عرب میں قریش کو قیادت کا مقام حاصل تھا۔ لوگ قریش کے ڈر سے اپنے اسلام کا اعلان نہیں کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اسلام کا اعلان کرنا قریش سے جنگ چھیڑنے کے ہم معنی ہے۔ معاہدہ حدیبیہ کے بعد جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان دس سال کا نا جنگ معاہدہ ہو گیا ہے تو یہ خطرہ دور ہو گیا اور لوگ اس طرح اسلام قبول کرنے لگے جیسے ٹریفک پوسٹ پر بند سڑک کھلنے کے بعد اچانک سواریاں ٹوٹ پڑتی ہیں۔ قال الفقیہ ابن شہاب الزہری وغيره ان الله فتح على المسلمين بصلح الحديبية اكثر مما فتح الله عليهم به من اي غزو آخر بدليل ان النبي صلى الله عليه وسلم رجع الى مكة عام الفتح بعشرة آلاف ولم تكن عدته من قبل لتزيد على ثلاثة آلاف يحال، و علله بانه لماهادن قريشا لم يجدالعرب حرجا ان يدخلوا لا سلام فان ذلك لا يغيظ قريشا ولا يعتبر تحديا لها (محمدصلی اللہ علیہ وسلم وبنو اسرائیل للڈکٹر مصطفی کمال وصفی، 1967، مصر، صفحہ (101-102۔ یعنی، ابن شہاب زہری اور دوسروں نے کہا ہے کہ اللہ نے صلح حدیبیہ کے ذریعہ مسلمانوں کو جو فتوحات دیں وہ کسی بھی دوسرے غزوہ سے زیادہ تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے سال مکہ میں دس ہزار افراد کے ساتھ داخل ہوئے جب کہ اس سے پہلے ان کی تعداد تین ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب قریش نے جنگ جوئی بند کر دی تو عربوں کو اسلام میں داخل ہونے کے لیے کوئی رکاوٹ نہ رہی۔ کیونکہ اب قریش کے غصہ اور مقابلہ کا خطرہ نہیں تھا۔ بخاری نے حضرت براء سے روایت کیا ہے، انہوں نے بعد کے لوگوں سے کہا، تم لوگ فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو۔ مگر ہم لوگ صلح حدیبیہ کو فتح کہا کرتے تھے (تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader