فتح اسلام
Urdu book, p. 233
By Maulana Wahiduddin Khan
فَتْحَ مَكَّةَ، وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا، وَنَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 4150۔ اس معاہدے کے ذریعے مدینہ کا اقتصادی محاصرہ ختم ہو گیا اور مدینہ کے تجارتی قافلے آزادی کے ساتھ مکہ سے گزرنے لگے۔ ابو بصیر، ابو جندل وغیرہ جن کو معاہدہ کے مطابق قریش کی طرف واپس آنا ضروری تھا، وہ بھاگ کر ذوالمر وہ پہنچے۔ وہاں اس قسم کے اور مسلمان جمع ہونے لگے حتیٰ کہ وہ ایک نیا مرکز بن گیا اور اس نے قریش کے تجارتی قافلوں کو اتنا پریشان کیا کہ انہوں نے ازخود معاہدہ کی یہ دفعہ ختم کر دی۔ انسان کی سب سے بڑی کمزوری عجلت اور ظاہر پرستی ہے۔ اگر آدمی ظواہر سے بلند ہو جائے تو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ایسے امکانات رکھے ہیں جو آدمی کو کامیابی تک پہنچانے کی یقینی ضمانت ہیں: وَكَانَ أَبُو بَكْرِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: مَا كَانَ فَتْحٌ فِي الْإِسْلَامِ أَعْظَمَ مِنْ فَتْحِ الْحُدَيْبِيَةِ، وَلَكِنَّ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ قَصُرَ رَأْيُهُمْ عَمَّا كَانَ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَرَبِّهِ، وَالْعِبَادُ يَعْجَلُونَ، وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَعْجَلُ كَعَجَلَةِ الْعِبَادِ حَتَّى تَبْلُغَ الْأُمُورُ مَا أَرَادَ اللهُ (مغازى الواقدی، جلد 2، صفحہ 610)۔ حضرت ابو بکر فرماتے تھے اسلام میں فتح حدیبیہ سے زیادہ بڑی فتح کوئی نہیں ہوئی، مگر اس دن لوگوں کی نظریں وہاں تک نہ پہنچ سکیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رب کے درمیان تھا۔ بندے جلدی چاہتے ہیں۔ مگر اللہ بندوں کی طرح جلدی نہیں کرتا یہاں تک کہ معاملات وہاں پہنچ جائیں جہاں وہ ان کو پہنچانا چاہتا ہے۔ حقیقت پسندی دنیا میں سب سے زیادہ کامیاب ہے، اگرچہ حقیقت پسندی ہی وہ چیز ہے جو کسی کامیابی تک پہنچنے کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔ خیبر سے فارغ ہونے کے بعد ہی آپ نے ایک اور مہم کی تیاری شروع کر دی تھی۔ مگر کسی ایک شخص سے بھی آپ نے نہیں بتایا کہ یہ تیاری کس کے خلاف ہے حتیٰ کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader