Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

فتح اسلام

Urdu book, p. 234

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت ابوبکر تک کو معلوم نہ تھا کہ آپ کدھر کا قصد کرنے والے ہیں۔ رمضان 8 ھ کے آغاز میں جب اسلامی لشکر نے آپ کے حکم کے مطابق مکہ کا رخ کیا، اس وقت لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ کی منزل کیا ہے۔ تاہم پورا سفر اتنی خاموشی سے طے ہوا کہ آپ مر اظہران تک پہنچ گئے اور مکہ والوں کو خبر نہ ہوئی (فَلَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ الظُّهْرَانِ، وَقَدْ عُمِّيَتِ الْأَخْبَارُ عَنْ قُرَيْشٍ، فَلَمْ يَأْتِهِمْ خَبَرٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) - آپ نے روانگی سے پہلے دعا فرمائی: اَللّٰهُمَّ خُذِ الْعُيُونَ وَالْأَخْبَارَ عَنْ قُرَيْشٍ حَتَّى نَبْتَغْتَهَا فِي بِلَادِهَا (خدایا قریش سے جاسوسوں اور خبروں کو روک لے یہاں تک کہ میں ان کے شہر میں داخل ہو جاؤں )۔ اس مہم کی تیاری کے لیے آپ نے حیرت انگیز انتظامات کیے۔ آپ نے حکم دیا کہ شہر مدینہ کا تعلق باہر سے منقطع کر دیا جائے۔ نہ کوئی شخص باہر سے شہر کے اندر داخل ہو اور نہ کوئی شخص شہر سے باہر جانے پائے۔ حضرت علی کی قیادت میں کچھ لوگ راستوں کی نگرانی کے لیے مقرر کر دیے گئے۔ انہی لوگوں نے حاطب بن ابی بلتعہ کے قاصد کو پکڑ کر اس سے مشہور خط برآمد کیا تھا (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 400-397)۔ سارا لشکر سامان اور ہتھیار سے لیس تھا۔ مسلمانوں کی ساری تعداد کو ساتھ لیا گیا (فَلَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْهُ مِنْهُمْ أَحَدٌ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 400 - روانگی کا انتظام آپ نے اس طرح کیا کہ دس ہزار فوج کو مختلف دستوں میں بانٹ دیا۔ ہر دستہ کا ایک سردار تھا جو جھنڈا لے کر آگے چلتا اور اس کے پیچھے چند سو کا دستہ قطار در قطار مارچ کرتا۔ اپنے چچا حضرت عباس سے آپ نے کہا کہ ابوسفیان کو فوجوں کے مارچ کا منظر دکھائیے۔ آپ نے حضرت عباس سے فرمایا: اِحْبِسْهُ بِمَضِيْقِ الْوَادِي عِنْدَ خَطْمِ الْجَبَلِ، حَتَّى تَمُرَّ بِهِ جُنُودُ اللَّهِ فَيَرَاهَا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page