فتح اسلام
Urdu book, p. 235
By Maulana Wahiduddin Khan
( سیرت ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 403 ) ۔ یعنی ، ابوسفیان کو پہاڑ کے پاس گزرگاہ پر روکے رہیے تا کہ اللہ کا لشکر ان کے سامنے سے گزرے اور وہ اس کو دیکھیں ۔ اسلامی لشکر قطار در قطار گزر رہا تھا اور ابوسفیان حیرانی کے ساتھ دیکھ رہے تھے ، یہاں تک کہ ابوسفیان کی زبان سے نکلا : مَا لِأَحَدٍ بِهؤُلَاءِ قِبَلٌ وَلَا طَاقَةٌ ( سیرت ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 404 ) ۔ کسی کے پاس ان سے مقابلے کی طاقت نہیں ہے ۔ ایک روایت میں ہے : فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ جُنُوداً قَطُّ ، وَلَا جَمَاعَةً ( المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث نمبر 7263 ) ۔ یعنی ، میں نے اس جیسا لشکر آج تک نہیں دیکھا ، اور نہ ایسی جماعت ۔ ایک طرف آپ نے مکہ کے لیڈر (ابوسفیان) کو اس طرح متاثر کیا، دوسری طرف یہ اعلان کر دیا کہ جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اس کو امان ہے (مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ) صحیح مسلم ، حدیث نمبر 1780 ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابوسفیان نے خود ہی مکہ میں اعلان کر دیا کہ اے لوگو ، محمد کی اطاعت قبول کر لو ۔ آج ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت کسی میں نہیں ۔ فتح مکہ کے بعد کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ اس مہم کے لیے اتنی زبردست تیاری مکہ میں خون ریزی کے لیے نہ تھی بلکہ اہل مکہ کو مرعوب کرنے کے لیے تھی تا کہ خون بہائے بغیر مکہ پر اسلام کا قبضہ ہو جائے ۔ لشکر اسلام کے سردار سعد بن عبادہ نے مکہ کے قریب پہنچ کر نعرہ لگایا : اَلْيَوْمُ يَوْمُ الْمُلْحَمَةَ ( آج گھمسان کا دن ہے ) آپ نے فرمایا نہیں ، آج رحمت کا دن ہے ( اَلْيَوْمُ يَوْمُ الْمَرْحَمَةَ ) اور ان کو سرداری سے معزول کر کے جھنڈا ان کے لڑکے قیس کو دے دیا ( تاریخ دمشق لابن عسا کر ، جلد 23 ، صفحہ 454 ) ۔ فتح مکہ کے بعد بھی اگر چہ کچھ لڑائیاں ہوئیں اور مجموعی طور پر آپ کے غزوات ( چھوٹے بڑے ) کی تعداد 80 تک پہنچتی ہے ۔ تا ہم مکہ کا فتح ہونا ملک کے دار السلطنت کا قبضہ میں آنا تھا ۔ چنانچہ معمولی جھڑپوں کے بعد سارے عرب کے اقتدار کو تسلیم کر لیا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader