فتح اسلام
Urdu book, p. 236
By Maulana Wahiduddin Khan
فتح کے بعد دشمن کے اوپر فتح آدمی کے اندر بیک وقت دو جذبات پیدا کرتی ہے — غرور اور انتقام۔ مگر آپ کی فتح پیغمبر کی فتح تھی۔ آپ اس قسم کے جذبات سے بالکل خالی تھے۔ ابن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ فتح مکہ کے وقت جب آپ مکہ میں داخل ہوئے تو تواضع سے آپ کی گردن جھکی ہوئی تھی، حتیٰ کہ لوگوں نے دیکھا کہ آپ کی داڑھی کجاوہ کی لکڑی کو چھورہی ہے (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 405)۔ باب کعبہ پر کھڑے ہوکر آپ نے خطبہ دیا، اس میں یہ الفاظ فرمائے: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 412)۔ یعنی، ایک اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں، کوئی اس کا شریک نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا۔ اس نے اپنے بندے کی مدد کی اور دشمن کی جماعتوں کو اس نے تنہا شکست دی۔ گویا آپ نے فتح کے اس واقعہ کو تمام کا تمام خدا کے خانہ میں ڈال دیا۔ اسی خطبہ میں آگے چل کر یہ الفاظ روایت کیے گئے ہیں: ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، مَا تَرَوْنَ أَنِّي فَاعِلٌ فِيكُمْ؟ قَالُوا: خَيْرًا، أَخٌ كَرِيمٌ، وَابْنُ أَخٍ كَرِيمٍ۔ قَالَ فَإِنِّي أَقُولُ كَمَا قَالَ يُوسُفُ لِإِخْوَتِهِ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ (زاد المعاد، لابن القیم الجوزیہ، جلد 3، صفحہ 359)۔ یعنی، آپ نے فرمایا اے گروہ قریش، میری نسبت تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ بھلائی۔ آپ شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں۔ آپ نے فرمایا میں تم سے وہی کہتا ہوں جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا کہ آج تمہارے اوپر کوئی ملامت نہیں جاؤ تم سب آزاد ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader