Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

فتح اسلام

Urdu book, p. 237

By Maulana Wahiduddin Khan

اس طرح آپ نے پہلے ہی مرحلہ میں اس چیز کو ختم کر دیا جو فاتح اور مفتوح کے درمیان انتقام اور ردعمل کی صورت میں لامحدود مدت تک جاری رہتی ہے۔ فاتح قومیں، اس طرح کی فتح کے بعد، عام طور پر تخریب کے عمل میں لگ جاتی ہیں۔ مگر آپ نے عمومی معافی کا طریقہ اختیار کر کے تمام قوتوں کو تعمیر کے راستہ میں لگا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اپنے فوجی سرداروں کو حکم دیا کہ وہ کسی سے جنگ نہ کریں الا یہ کہ کوئی خود ان سے لڑنے کے لیے آجاۓ (أَنْ لَا يُقَاتِلُوا إِلَّا مَنْ قَاتَلَهُمْ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 409۔ فتح کے بعد آپ نے عمومی طور پر ان سب لوگوں کی معافی کا اعلان کر دیا جنھوں نے آپ کے خلاف سخت ترین جرائم کیے تھے۔ البتہ آپ نے کچھ لوگوں کی بابت فرمایا کہ وہ قتل کر دیے جائیں، خواہ وہ کعبہ کے پردے کے نیچے پائے جائیں۔ ابن ہشام وغیرہ نے اپنی سیرت کی کتابوں میں بنام ان کا ذکر کیا ہے۔ ان کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ 1۔ عبداللہ بن سعد: یہ مسلمان ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کاتب وحی مقرر کیا۔ پھر وہ مرتد ہو کر کافروں سے جاملے۔ فتح مکہ کے بعد جب ان کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قتل کا حکم دیا ہے تو وہ بھاگ کر حضرت عثمان کے پاس پہنچے جو ان کے دودھ شریک بھائی تھے۔ وہ ان کو چھپا کر رسول اللہ کے پاس لائے اور کہا کہ ان کو دوبارہ مسلمان کر لیجیے۔ آپ خاموش رہے۔ حضرت عثمان نے پھر درخواست کی تو آپ نے ان سے بیعت لے لی۔ حضرت عمر اور حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں وہ مصر کے حاکم رہے اور افریقہ کی فتح میں ان کا خاص حصہ تھا۔ 2۔ عبداللہ بن خطل: اس نے پہلے اسلام قبول کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ اس کے ساتھ ایک غلام اور ایک انصاری تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page