Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

فتح اسلام

Urdu book, p. 238

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک منزل پر پہنچ کر عبد اللہ بن خطل نے اپنے غلام سے کہا کہ مرغ ذبح کر کے اس کو پکاؤ۔ مگر غلام سو گیا۔ اور وقت پر کھانا تیار نہ کر سکا۔ اس پر ابنِ خطل کو غصہ آ گیا اور اس نے غلام کو مار ڈالا۔ اب اس کو ڈر ہوا کہ اگر میں مدینہ واپس جاتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے قصاص لیں گے۔ چنانچہ وہ مرتد ہو کر مکہ چلا گیا اور مشرکین سے مل گیا۔ وہ شاعر تھا اور آپ کی ہجو میں اشعار کہا کرتا تھا۔ فتح مکہ کے دن ابنِ خطل خانہ کعبہ کے پردوں سے لپٹ گیا۔ آپ کو بتایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہیں جا کر قتل کر دو۔ چنانچہ ابو برزہ اسلمی اور سعید بن حریث نے حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کو قتل کیا۔ 3۔ فرتنی: یہ مذکورہ عبد اللہ بن خطل کی باندی تھی۔ وہ آپ کی ہجو میں اشعار پڑھتی تھی اور مشرکین مکہ کی شراب کی مجلسوں میں گاتی بجاتی تھی۔ آپ نے ابنِ خطل کے ساتھ اس کے قتل کا بھی حکم دیا اور وہ قتل کر دی گئی۔ 4۔ قريبه: یہ بھی عبد اللہ بن خطل کی باندی تھی اور اس کا بھی پیشہ تھا جو فرتنی کا تھا۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ مگر اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر امن کی درخواست کی۔ اس کو آپ نے امن دے دیا اور وہ مسلمان ہو گئی۔ 5۔ حويرث بن نقید بن وہب: یہ شخص شاعر تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں شعر کہتا تھا، بالفاظ دیگر استہزاء و تمسخر کی حد تک اسلام کا مخالف تھا۔ حضرت عباس بن مطلب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں، فاطمہ اور ام کلثوم کو لے کر مکہ سے مدینہ روانہ ہوئے۔ حويرث بن نقید نے ان کا پیچھا کیا اور ان کے اونٹ کو نیزہ مار کر بھڑکا دیا جس کی وجہ سے دونوں خواتین زمین پر گر پڑیں۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا اور حضرت علی نے اس کو قتل کیا۔ 6۔ مقیس بن صبابہ: اس شخص کا ایک بھائی ہشام بن صبابہ تھا۔ غزوہ ذی قرد کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page