فتح اسلام
Urdu book, p. 239
By Maulana Wahiduddin Khan
موقع پر ایک انصاری نے ہشام کو غلطی سے قتل کر دیا۔ اس کے بعد مقیس بن صبابہ مکہ سے مدینہ آیا مسلمان ہو گیا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی کی دیت مجھے دلائی جائے جو غلطی سے دشمن سمجھ کر قتل کیا گیا ہے۔ آپ نے اس کی دیت ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد وہ چند دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہا اور پھر اپنے بھائی کے قاتل کو قتل کر کے اچانک مکہ بھاگ گیا اور مرتد ہو گیا۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا اور نمیلہ بن عبداللہ لیثی نے اس کو قتل کیا۔ ۷۔ سارہ: یہ عورت عکرمہ بن ابی جہل کی باندی تھی۔ آپ کی ہجو میں اشعار گایا کرتی تھی اور آپ کا مذاق اڑاتی تھی۔ آپ نے اس کا خون مباح کیا تھا۔ پھر اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر امن مانگا تو آپ نے امن دے دیا۔ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ وہ حضرت عمر کے زمانہ خلافت تک زندہ رہی۔ 8-9۔ حارث بن ہشام اور زہیر بن ابی امیہ: ان دونوں شخصوں کا خون بھی مباح کر دیا گیا تھا۔ وہ بھاگ کر اپنی ایک رشتہ دار خاتون ام ہانی بنت ابی طالب کے گھر میں داخل ہو گئے۔ حضرت علی ان کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچے اور کہا کہ خدا کی قسم میں ان دونوں کو ضرویقتل کروں گا۔ ام ہانی نے حضرت علی کو روکا اور ان دونوں کو اپنے گھر میں بند کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں۔ اور کہا کہ میں نے ان دونوں آدمیوں کو پناہ دی ہے مگر علی ان کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تم نے جن کو پناہ دی ہم نے بھی ان کو پناہ دی اور تم نے جن کو امن دیا ہم نے بھی ان کو امن دیا۔ علی ان کو قتل نہ کریں۔ چنانچہ وہ دونوں چھوڑ دیے گئے۔ 10۔ عکرمہ بن ابی جہل: عکرمہ اپنے باپ کی طرح اسلام کے سخت ترین دشمن تھے۔ ان کا خون بھی آپ نے مباح کر دیا تھا۔ وہ مکہ سے بھاگ کر یمن چلے گئے۔ ان کی بیوی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader