فتح اسلام
Urdu book, p. 240
By Maulana Wahiduddin Khan
ام حکیم بنت حارث جو مسلمان ہو چکی تھیں۔ انہوں نے اپنے شوہر کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے امان کی درخواست کی۔ آپ نے ان کی امان منظور کر لی۔ اس کے بعد وہ یمن گئیں اور عکرمہ کو مکہ واپس لائیں۔ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گئے۔ عکرمہ نے اس کے بعد اسلام کے لیے زبردست جانی و مالی قربانی دی۔ وہ حضرت ابوبکر کی خلافت کے زمانہ میں اجنادین کی جنگ میں قتل ہوئے۔ 11۔ ہبار بن الاسود: اس شخص سے مسلمانوں کو بہت تکلیفیں پہنچی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب زوجہ ابو العاص ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ جا رہی تھیں ۔ ہبار بن اسود نے آپ کے اونٹ کو نیزہ مارا۔ اس کے بعد اونٹ بدک کر دوڑاتو حضرت زینب اونٹ سے زمین پر گر پڑیں۔ اس وقت وہ حاملہ تھیں۔ ان کا حمل ساقط ہو گیا۔ اس کے بعد وہ آخر عمر تک بیمار رہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہبار کے قتل کا حکم دیا تھا۔ ہبار نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر امان طلب کی اور کہا کہ اے خدا کے رسول میری جہالت کو معاف کر دیجیئے اور میرا اسلام قبول کر لیجیے ۔ آپ نے ان کو معاف کر دیا۔ 12۔ وحشی بن حرب: وحشی نے آپ کے چچا حضرت حمزہ کو قتل کیا تھا اور ان کا خون بھی مباح کر دیا گیا تھا۔ وہ اولاً مکہ سے طائف بھاگ گئے۔ پھر مدینہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی غلطی کی معافی چاہتے ہوئے اسلام کی پیش کش کی۔ آپ نے ان کو اسلام میں داخل کر لیا اور ان کو معاف کر دیا۔ وہ حضرت ابو بکر کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے اور جس حربہ سے حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا اسی حربہ سے مسیلمہ کذاب کو قتل کیا۔ 13۔ کعب بن زہیر: عرب کے مشہور شاعر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں اشعار کہا کرتے تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر ان کا خون بھی مباح کر دیا گیا تھا۔ وہ مکہ سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader