فتح اسلام
Urdu book, p. 241
By Maulana Wahiduddin Khan
بھاگ گئے ۔ وہ بعد کو مدینہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگتے ہوئے بیعت کی درخواست کی ۔ آپ نے ان کو بیعت کر لیا اور اس کے بعد ان کو اپنی چادر عنایت فرمائی ۔ 14۔ حارث بن طلالط : یہ شخص شاعر تھا اور اشعار کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑایا کرتا تھا ۔ آپ نے اس کا خون مباح کر دیا اور حضرت علی نے اس کو قتل کیا۔ 15۔ عبد اللہ بن زبعری : یہ عرب کے بڑے شاعروں میں سے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذمت میں ہجو یہ اشعار کہا کرتے تھے ۔ آپ نے ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ وہ مکہ سے بھاگ کر نجران چلے گئے ۔ بعد میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر انہوں نے توبہ کی اور اسلام لائے ۔ آپ نے ان کو معاف کر دیا ۔ 16۔ ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی: یہ شخص شاعر تھا اور شعر کہہ کر آپ کا اور آپ کے مشن کا استہزا کیا کرتا تھا ۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ وہ مکہ سے بھاگ کر نجران چلا گیا اور وہیں کفر کی حالت میں مر گیا ۔ 17۔ ہند بنت عتبہ زوجہ ابوسفیان : اس عرب خاتون کو اسلام سے اتنی دشمنی تھی کہ غزوہ احد کے موقع پر انہوں نے حضرت حمزہ کا جگر نکال کر چبایا تھا ۔ آپ نے ان کے قتل کا حکم دیا ۔ مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنی غلطیوں کی معافی مانگتے ہوئے اسلام قبول کر لیا ۔ آپ نے ان کو معاف کر دیا ۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر گئیں اور تمام بتوں کو توڑ ڈالا اور کہا : خدا کی قسم تمہاری ہی وجہ سے ہم دھوکہ میں تھے ۔ اوپر جو تفصیل درج کی گئی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سترہ مردوں اور عورتوں کے قتل کا حکم دیا تھا ۔ ان میں سے ہر شخص متعین اور معلوم شخصی جرم کی بنا پر گردن زدنی تھا ۔ تاہم ان میں سے جس شخص نے بھی معافی مانگی یا اس کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader