Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

پیغمبرِ انقلاب

Urdu book, p. 242

By Maulana Wahiduddin Khan

طرف سے کسی نے معافی کی درخواست کی اس کو آپ نے معاف کر دیا۔ معافی طلب کرنے والوں میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کیا گیا۔ سترہ آدمیوں کا خون مباح کیا گیا تھا، ان میں سے گیارہ آدمیوں کو براہ راست یا بالواسطہ معافی طلب کرنے پر معاف کر دیا گیا۔ پانچ آدمی جنہوں نے معافی کی درخواست نہیں کی وہ قتل کر دیے گئے اور ایک آدمی سے دور بھاگ گیا اور طبعی موت سے اس کا خاتمہ ہوا۔ ایک سوال اور اس کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بنومخزوم کی ایک عورت نے چوری کی جس کا نام فاطمہ تھا۔ اس کے قبیلہ والوں کو ڈر رہا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ اسامہ بن زید رسول اللہ کے بہت قریبی لوگوں میں تھے ۔ چنانچہ لوگوں نے اسامہ سے کہا کہ تم رسول اللہ سے سفارش کرو کہ ہماری عورت کو چھوڑ دیا جائے۔ حضرت اسامہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور فاطمہ مخزومی کی معافی کی درخواست کی۔ یہ سن کر آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا، آپ نے فرمایا: کیا تم اللہ کی حدوں میں سے ایک حد کے لیے مجھ سے سفارش کر رہے ہو (أَتَكْلَّمُنِي فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ) اس کے بعد آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور تقریر کرتے ہوئے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میری لڑکی فاطمہ چوری کرتی تو یقیناً میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا ( وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا ) چنانچہ اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد وہ تائب ہو کر ایک صالح خاتون بن گئی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4304)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی ایک حد کو معاف کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے۔ پھر کیوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد لوگوں کو اتنی فراخ دلی کے ساتھ معاف کر دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام حالت میں کیے جانے والے جرم اور جنگی حالت میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page