ایک سوال اور اس کا جواب
Urdu book, p. 243
By Maulana Wahiduddin Khan
کیے جانے والے جرم میں فرق ہے۔ عام حالات میں کوئی شخص جرم کرے تو اس کا جرم معاف نہیں کیا جا سکتا۔ مگر جنگ و مقابلہ کے دوران دشمن گروہ کے افراد جو جرائم کرتے ہیں وہ اس وقت معاف کر دیے جاتے ہیں، جب کہ مذکورہ فرد اطاعت قبول کر کے معافی کا طالب ہو۔ غیر جنگی حالات میں کیا ہوا جرم ’’حد‘‘ پر ختم ہوتا ہے اور جنگی حالات میں کیا ہوا جرم اطاعت اور درخواست معافی پر۔ عرب میں اسلام دشمنوں نے مسلمانوں کے خلاف بدترین قسم کے جرائم کیے تھے۔ مگر اعلان کیا گیا کہ یہ کفر کرنے والے لوگ اگر باز آ جائیں تو اب تک جو کچھ ہو چکا ہے وہ معاف کر دیا جائے گا (الانفال، 8:38)۔ حکم ہوا کہ دشمن اگر صلح کی درخواست کرے تو قبول کر لو، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ صلح کے بعد اس کی طرف سے خیانت کا اندیشہ ہو : وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَإِنْ يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ ۚ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ (61-62) ۔ یعنی، اور اگر گروہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس طرف جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بے شک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ تم کو دھوکا دینا چاہیں تو اللہ تمہارے لیے کافی ہے، وہی ہے جس نے اپنی نصرت سے اور مومنین کے ذریعہ تم کو قوت دی۔ جن مباح الدم افراد کو اس موقع پر معافی دی گئی ان میں سے ایک عکرمہ بن ابی جہل تھے۔ وہ اپنے والد کے ساتھ اسلام دشمنی میں بے حد سرگرم رہ چکے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر طرح کی تکلیفیں پہنچائی تھیں مگر جب معلوم ہوا کہ وہ آپ کے پاس مطیع ہو کر آ ر ہے ہیں تو آپ نے اپنے اصحاب سے کہا: يَأْتِيكُمْ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ مُؤْمِنًا مُهَاجِرًا، فَلَا تَسُبُّوا أَبَاهُ، فَإِنَّ سَبَّ الْمَيِّتِ يُؤْذِي الْحَيَّ (مستدرک الحاكم، حدیث نمبر 5055)۔ یعنی، عکرمہ بن ابی جہل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader