Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

ختم نبوت

Urdu book, p. 248

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کی امت میں آپ کے بعد دوبارہ کفر و اسلام کا مسئلہ کھڑا ہونے والا نہیں ہے۔ آپ کی امت بدستور بڑھتی رہے گی، یہاں تک کہ قیامت آجاۓ گی۔ اس معاملہ کو بنی اسرائیل کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ حضرت مسیح کے زمانہ میں جو یہود تھے، وہ سب خدا کی شریعت پر ایمان رکھتے تھے، وہ حضرت موسیٰ کے امتی تھے۔ مگر ابن مریم کی صورت میں جب ان کے اندر ایک نیا نبی اٹھا تو اس کو ماننا یہود کے لیے ممکن نہ ہوسکا۔ حضرت موسیٰ کو وہ اب بھی مانتے تھے۔ مگر اپنے ہم عصر نبی کا انکار کر رہے تھے۔ اس کی وجہ سے، ایک درجن مومنین مسیح کو چھوڑ کر، سارے کے سارے یہودی کافر قرار پاگئے۔ حضرت مسیح کے چھو سو برس بعد جب نبی عربی کی بعثت ہوئی تو مسلمانوں کی اس نئی جماعت (عیسائیوں) کی تعداد بہت بڑھ چکی تھی۔ مگر دوبارہ وہی ہوا کہ نئے اسمٰعیلی نبی‘‘ کو ماننے کے لیے وہ اپنے کو آمادہ نہ کر سکے۔ وہ تاریخی نبی (حضرت مسیح) پر بدستور ایمان رکھتے تھے۔ مگر اپنے ہم عصر نبی (حضرت محمد) کے منکر تھے۔ اس کی وجہ سے دوبارہ ایسا ہوا کہ نبوت محمدی پر ایمان لانے والے چند عیسائیوں کو چھوڑ کر پوری عیسائی قوم کو کافر قرار دے دیا گیا۔ ختم نبوت کی وجہ سے امت محمدی ، کم از کم موجودہ دنیا میں، اس قسم کی آزمائش سے دوبارہ دوچار ہونے والی نہیں۔ اس لیے آپ کے امتیوں کی تعداد بھی دوسرے انبیاء کے پیروؤں سے زیادہ رہے گی۔ یہ بھی ایک پہلو ہے آپ کے رحمتہ للعالمین ہونے کا جو اس لیے حاصل ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مقام محمود پر کھڑا کیا۔ مقام محمود دنیوی اعتبار سے یہ ہے کہ آپ کی نبوت کو ساری دنیا کے لیے ایک تاریخی مسلمہ بنا دیا گیا۔ یہی تعریفی حیثیت قیامت کے دن خصوصی خداوندی اعزاز کی صورت میں ظاہر ہوگی جو اولین و آخرین میں آپ کے سوا کسی کو حاصل نہ ہوگی۔ مگر کسی نبی کو مقام محمود پر کھڑا کرنا سادہ طور پر محض نامزدگی کا معاملہ نہ تھا۔ یہ ایک نئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page