ختم نبوت
Urdu book, p. 249
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ کو ظہور میں لانے کا معاملہ تھا۔ اس کے لیے ایک طرف ایسی معیاری شخصیت درکار تھی جیسی کوئی دوسری شخصیت بنی آدم میں پیدا نہ ہوئی ہو دوسری طرف ایسی قربانی اور حوالگی درکار تھی جیسی قربانی و حوالگی کا ثبوت کسی دوسرے انسان نے نہ دیا ہو۔ یہی وہ نازک لمحہ تھا جب کہ خدا نے اپنے ایک بندے کو پکار کر کہا: يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ (74:1-3)۔ یعنی، اے کپڑے میں لپٹنے والے۔ اٹھ اور لوگوں کو آگاہ کر۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ اور کمبل میں لپٹی ہوئی اس عظیم روح نے لبیک کہہ کر اپنے آپ کو ہمہ تن خدائی منصوبہ کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد طویل عمل کے نتیجہ میں بالآخر وہ نبوت ظہور میں آئی جو سارے عالم کے لیے رحمت بن گئی۔ جس نے انسانی تاریخ میں بار بار نئے نبیوں کی آمد کے آزمائشی دور کو ختم کیا اور ایک مسلّم نبوت کے دور کا آغاز کر کے لوگوں کے لیے خدا کی رحمتوں میں فوج در فوج داخل ہونے کا دروازہ کھول دیا۔ نبوت کو تاریخی مسلّم بنانے کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ آئندہ کے لیے نبیوں کی آمد کا سلسلہ بند ہو جائے۔ مگر یہ بھی محض اعلان کا معاملہ نہ تھا۔ ختم نبوت سے پہلے ضروری تھا کہ چند شرائط لازمی طور پر پوری ہو چکی ہوں : 1۔ زندگی کے تمام معاملات کے لیے احکام خداوندی کا نزول (وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا) 6:114۔ 2۔ انسانی کردار کے لیے ایک کامل نمونہ سامنے آجانا (لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ) 33:21۔ 3۔ وحی الہی کی دائمی حفاظت کا انتظام (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ) 15:9 اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک فیصلہ کے ذریعہ ان تینوں شرائط کی تکمیل کا انتظام فرما دیا۔ پچھلے نبیوں کے لیے اللہ کی سنت یہ رہی ہے کہ ہر نبی کو کچھ آیات (معجزے) دیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader