ختم نبوت
Urdu book, p. 250
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتے تھے۔ نبی اپنی مخاطب قوم میں تبلیغ و دعوت کا فریضہ آخری حد تک ادا کرتا۔ وہ غیر معمولی نشانیوں کے ذریعہ اپنے نمائندہ الہیٰ ہونے کا ثبوت پیش کرتا۔ اس کے باوجود جب لوگ ایمان نہ لاتے تو نبی کا کام ختم ہو جاتا۔ اب اللہ تعالیٰ کے فرشتے متحرک ہوتے اور زمینی یا آسمانی عذاب کے ذریعہ اس قوم کو ہلاک کر دیتے۔ نبی آخرالزماں کے لیے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہوا کہ آپ کی مخاطب قوم کے لیے اس قسم کا عذاب نہیں آئے گا۔ بلکہ خود نبی اور آپ کے اصحاب کو ان سے ٹکرا کر انہیں مجبور کیا جائے گا کہ وہ دین خداوندی کو قبول کریں (تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ) الفتح،48: 16۔ اس کے باوجود ان میں سے جو لوگ اطاعت نہ کریں وہ اہل ایمان کی تلواروں سے قتل کر دیے جائیں (قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ) التوبة، 9: 14۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس سے پہلے جو کام فرشتے کرتے تھے، اس کو انسانوں کے ذریعہ انجام دیا جائے۔ اسی فیصلہ الہی کا نتیجہ تھا کہ ہجرت اور اتمام حجت کے بعد دیگر انبیاء کی قوموں کے برعکس، اہل عرب پر کوئی جوالا مکھی پہاڑ نہیں پھٹا اور نہ آسمان سے آگ برسی۔ بلکہ رسول اور اصحاب رسول کو ان کے ساتھ ٹکرا دیا گیا۔ اس فوجی تصادم میں اللہ کی خصوصی نصرت کے ذریعہ رسول اور آپ کے اصحاب کو فتح حاصل ہوئی۔ خدا کا دین ایک با قاعدہ اسٹیٹ کی شکل میں جزیرہ نمائے عرب پر قائم ہو گیا۔ اس واقعہ کے مختلف نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ تھا کہ دعوت نبوت کو، انفرادی تقاضوں سے لے کر اجتماعی معاملات تک زندگی کے تمام مراحل سے گزرنا پڑا اور انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے مسلسل احکام اترتے رہے۔ اگر یہ واقعات پیش نہ آتے تو اسلامی شریعت میں ہر قسم کے احکام نہیں اتر سکتے تھے۔ کیونکہ اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ حالات کے لحاظ سے اپنے احکام بھیجتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کتابی مجموعہ کی شکل میں بیک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader