ختم نبوت
Urdu book, p. 251
By Maulana Wahiduddin Khan
وقت سارے احکام لکھ کر نبی کو دے دیے جائیں۔ فرشتوں کے ذریعے منکرین عرب کا استیصال کرنے کے بجائے اہل ایمان کی تلوار کے ذریعہ ان کو زیر کر کے فیصلے نے شریعت کی تکمیل کے اسباب پیدا کر دیے ۔ پھر اسی کی وجہ سے یہ امکان پیدا ہوا کہ پیغمبر کا سابقہ زندگی کی تمام صورتوں سے پیش آئے۔ اور ہر قسم کی سرگرمیوں میں وہ اسلامی کردار کا عملی نمونہ دکھا سکے۔ اس کے بعد خود حالات کے ارتقاء کے تحت ایسا ہوا کہ نبی کو مسجد اور مکان سے لے کر میدان جنگ اور تخت حکومت تک ہر جگہ کھڑا ہونا پڑا اور ہر جگہ اس نے معیاری انسانی کردار کا مظاہرہ کر کے قیامت تک کے لوگوں کے لیے نمونہ قائم کر دیا۔ پھر اسی واقعہ نے قرآن کی حفاظت کی صورتیں بھی پیدا کیں۔ پچھلی آسمانی کتابیں جو محفوظ نہ رہ سکیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی کے بعد ان کتابوں کی پشت پر کوئی ایسی طاقت نہ رہی جو بزوران کو ضائع ہونے سے بچاتی۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے اپنی ہم عصر قوموں سے مقابلہ کر کے اولاً عرب اور اس کے بعد قدیم دنیا کے بڑے حصہ پر اسلام کا غلبہ قائم کر دیا۔ اس طرح کتاب الہی کو حکومتی اقتدار کا سایہ حاصل ہو گیا جو خدا کی کتاب کو محفوظ رکھنے کی یقینی ضمانت تھا۔ یہ انتظام انٹا طاقت ور تھا کہ ایک ہزار برس تک اس میں کوئی فرق نہ آسکا۔ اسلامی اقتدار کے زیر سایہ قرآن ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتا رہا۔ یہاں تک کہ صنعتی انقلاب ہوا اور پریس کا دور آ گیا جس کے بعد قرآن کے ضائع ہونے کا کوئی سوال نہیں۔ یہ سب جو ہوا، اس طرح ٹھنڈے ٹھنڈے نہیں ہو گیا جیسے آج ہم اس کو سیرت و تاریخ کی کتابوں میں پڑھ لیتے ہیں۔ اس کے لیے نبی اور آپ کے ساتھیوں کو نا قابل برداشت طوفان سے گزر نا پڑا۔ کفار کے مطالبہ اور نبی کی خواہش کے باوجود ان کو فوق الفطری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader