ختم نبوت
Urdu book, p. 252
By Maulana Wahiduddin Khan
معجزے نہیں دیے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں اپنے اخلاق وکردار کو معجزاتی واقعات کا بدل بنانا پڑا۔ ان کے مکذِّبین کے لیے کوئی ارضی و سماوی عذاب نہیں آیا۔ اس طرح انہیں وہ کام کرنا پڑا جس کے لیے پہلے بھو نچال آتے تھے اور آتش فشاں پھٹتے تھے۔ ختم نبوت کے فیصلے کے باوجود کتاب الہی کو یکبارگی ان کے حوالے نہیں کیا گیا۔ اس لیے ان کے واسطے ضروری ہو گیا کہ وہ زندگی کے وسیع سمندروں میں کودیں اور ہر قسم کی چٹانوں سے ٹکرائیں تا کہ تمام معاملات زندگی کے بارے میں ان پر احکام الہی کا نزول ہو سکے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس پورے عمل کے دوران نبی اور آپ کے اصحاب امتحان کے اس انتہائی کڑے معیار پر تھے جس کو قرآن میں زلزالِ شدید (الاحزاب، 33:11) کہا گیا ہے۔ نبی کو سخت ترین حکم تھا کہ ظالموں کی طرف ادنیٰ جھکاؤ بھی مت دکھاؤ (الاسراء، 17:75) ورنہ تم کو دگنی سزا دی جائے گی۔ حالات خواہ کتنے ہی شدید ہوں، آپ کے ساتھیوں کے لیے کسی بھی حال میں تخلف (التوبہ، 9:120) کی اجازت نہ تھی، یعنی اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے سے پیچھے ہٹنا۔ آپ کی ازواج اگر دو وقت کی روٹی کا بھی مطالبہ کریں تو ان کے لیے یہ صاف جواب تھا کہ پیغمبر کی صحبت اور دنیا میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرلو (الاحزاب، 33:28)۔ حقیقت یہ ہے کہ نبوتِ محمودی ( تاریخی طور پر تسلیم شدہ نبوت ) کو بروئے کار لانا انسانی تاریخ کا مشکل ترین منصوبہ تھا۔ اور یہ سب کچھ اتنی قیامت خیز سطح پر ہوا کہ خود رسول کی زبان سے نکلا کہ ”اس راہ میں مجھ کو اتنا ستایا گیا جتنا کسی دوسرے نبی کو نہیں ستایا گیا۔“ آپ کی رفیقہ حیات نے شہادت دی کہ لوگوں نے آپ کو روند ڈالا تھا (حَطَمَةُ النَّاسُ) صحیح مسلم، حدیث نمبر 732۔ خاتم النبیین اور آپ کے ساتھیوں نے دنیا کا آرام تو درکنار زندگی کی ناگزیر ضرورتوں سے بھی اپنے کو محروم کر لیا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہو سکا کہ تاریخ میں اس نبوت کا دور شروع ہوجس کو رحمتہ للعالمین کہا گیا ہے۔ نبی عربی کا آپ کے بعد آنے والی نسلوں پر یہی وہ احسان عظیم ہے جس کی وجہ سے دائمی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader