اجتماعی انقلابات
Urdu book, p. 258
By Maulana Wahiduddin Khan
کی مثال لیجیے۔ لاطینی کا مرکز بعد کے دور میں اگر چہ اٹلی بنا، مگر اصلایہ زبان اٹلی کی پیداوار نہ تھی۔ تقریباً 12 سو قبل مسیح، لوہے کا زمانہ آنے کے بعد، جب وسط یورپ کے قبائل اطراف کے علاقوں میں پھیلے تو ان کی ایک تعداد، خاص طور پر کوہ الپس کے قبائل اٹلی میں داخل ہوئے اور روم اور اس کے آس پاس آباد ہوئے۔ ان کی بولی اور مقامی بولی کے ملنے سے جو زبان بنی، وہی ابتدائی لاطینی زبان تھی۔ تیسری صدی قبل مسیح میں لیوپس اینڈ رونیکس نے یونانی زبان کے کچھ ڈراموں اور کہانیوں کا ترجمہ لاطینی میں کیا۔ اس طرح لاطینی زبان ادبی زبان کے دور میں داخل ہوئی۔ پہلی صدی قبل مسیح میں رومی سلطنت قائم ہوئی تو اس نے لا طینی کو اپنی سرکاری زبان بنایا، مسیحیت کے پھیلاؤ سے بھی اس کو تقویت ملی۔ اس طرح مذہب اور سیاست نیز سماجی اور اقتصادی زور پر اس کی ترقی ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ قدیم یورپ کے تقریباً پورے علاقہ میں پھیل گئی۔ سینٹ آگسٹین (430-354ء) کے زمانے میں لاطینی اپنے عروج پر تھی۔ قرون وسطیٰ میں لاطینی زبان دنیا کی سب سے بڑی بین اقوامی زبان سمجھی جاتی تھی۔ آٹھویں صدی میں مسلم قومیں ابھریں اور انہوں نے رومی سلطنت کو توڑ کر اس کو قسطنطنیہ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ 1453 میں ترکوں نے قسطنطنیہ کو فتح کر کے وہاں سے بھی اس کا خاتمہ کر دیا۔ ہزار برس قبل جب رومی شہنشاہیت ٹوٹی تو مختلف علاقائی بولیوں کو ابھرنے کا موقع مل گیا۔ یہی بولیاں، لاطینی کی آمیزش کے ساتھ بعد کو وہ زبانیں بنیں جن کو آج ہم فرانسیسی، اطالوی، اسپینی، پرتگالی، رومانوي زبانیں کہتے ہیں۔ اب لاطینی زبان صرف رومن کلیسا کی عبادتی زبان ہے اور سائنس اور قانون کی اصطلاحات میں استعمال ہوتی ہے۔ اب وہ کوئی زندہ زبان نہیں ہے۔ بلکہ اس کی حیثیت تاریخی ہے۔ مثال کے طور پر نیوٹن (1727-1642ء)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader