Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اجتماعی انقلابات

Urdu book, p. 259

By Maulana Wahiduddin Khan

کی پرنسپیا کوئی اصل زبان میں پڑھنا چاہیے تو اس کو قدیم لاطینی زبان سیکھنی پڑے گی۔ یہی معاملہ تمام قدیم زبانوں کے ساتھ ہوا ہے۔ ہر زبان مختلف سماجی حالات کے تحت بدلتی رہی۔ یہاں تک کہ ابتدائی زبان ختم ہو گئی اور اس کی جگہ دوسری بدلی ہوئی زبان نے لے لی۔ قومی اختلاط، تہذیبی تصادم، سیاسی، انقلاب، زمانی تبدیلی جب بھی کسی زبان کے ساتھ پیش آئے ہیں تو وہ بدل کر کچھ سے کچھ ہو گئی ہے۔ یہی تمام حالات پچھلے ڈیڑھ ہزار برس میں عربی زبان کے ساتھ بھی پیش آئے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ عربی زبان میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی۔ اس تغیر پذیر لسانی دنیا میں عربی کا غیر تغیر پذیر رہنا اتمام قرآن کا معجزہ ہے۔ 70ء میں یہودی قبائل شام سے نکل کر یثرب (مدینہ) آئے۔ یہاں اس وقت عمالقہ آباد تھے جن کی زبان عربی تھی۔ عمالقہ کے ساتھ اختلاط کے بعد یہودی نسلوں کی زبان عربی ہو گئی۔ تاہم ان کی عربی عام عربوں کی زبان سے مختلف تھی۔ وہ عبری اور عربی کا ایک مرکب تھی۔ یہی واقعہ اسلام کے بعد عربوں کے ساتھ زیادہ بڑے پیمانہ پر پیش آیا جب کہ وہ اپنے وطن عرب سے نکلے اور ایشیا اور افریقہ کے ان ملکوں میں داخل ہوئے جہاں کی زبانیں دوسری تھیں۔ مگر اس اختلاط کا کوئی اثر ان کی زبان پر نہیں پڑا۔ عربی بدستور اپنی اصل حالت پر محفوظ رہی۔ نزول قرآن کے بعد عربی زبان کے لیے اس قسم کا پہلا موقع خود صدر اول میں پیش آیا۔ اسلام عرب کے مختلف قبائل میں پھیلا۔ وہ لوگ اسلامی شہروں میں یک جا ہونے لگے۔ مختلف قبائل کی زبانیں تلفظ، لب ولجہ وغیرہ کے اعتبار سے کافی مختلف تھیں۔ ابو عمروبن العلاء کو کہنا پڑا تھا: ما لسان حمير بلساننا ولا لغتهم بلغتنا (معجم متن اللغۃ للشيخ احمد رضا، جلد 1، صفحہ 40)۔ یعنی، قبیلہ حمیر کی زبان ہماری زبان نہیں ہے۔ حضرت عمر نے ایک بار ایک صحابی کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا تو اس کو پکڑ کر رسول اللہ کے پاس لائے۔ کیونکہ وہ الفاظ قرآن کو اتنے مختلف ڈھنگ سے ادا کر رہا تھا کہ حضرت عمر یہ نہ سمجھ سکے کہ وہ قرآن کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page