Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اجتماعی انقلابات

Urdu book, p. 260

By Maulana Wahiduddin Khan

کون سا حصہ پڑھ رہا ہے (مسند احمد، حدیث نمبر 297-296)۔ اسی طرح رسول اللہ نے ایک بار ایک عرب قبیلے کے وفد سے اس کی اپنی بولی میں گفتگو کی تو حضرت علی کو ایسا محسوس ہوا جیسے آپ کوئی اور زبان بول رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ لہجوں کا اختلاف تھا۔ مثلاً بنو تمیم جو مشرقی نجدمیں رہتے تھے، وہ جیم کا تلفظ یا سے کرتے تھے۔ وہ مسجد کو مسید اور شجرات کو سشرات کہتے تھے۔ اسی طرح بنو تمیم ق کو جیم بولتے تھے۔ مثلاً طریق کو طریج، صدیق کو صدیج، قدر کو جدر اور قاسم کو جاسم وغیرہ۔ اس طرح مختلف قبائل کے ملنے سے لسانی تاریخ کے عام قانون کے مطابق ایک نیا عمل شروع ہونا چاہیے تھا جو بالآخر ایک نئی زبان کی تشکیل پر منتہی ہوتا۔ مگر قرآن کے برتر ادب نے عربی زبان کو اس طرح اپنے قبضہ میں لے رکھا تھا کہ اس کے اندر اس قسم کا عمل جاری نہ ہوسکا۔ اس کے برعکس، وہ واقعہ پیش آیا جس کو ڈاکٹر احمد حسن زیات (1968-1885ء) نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے: ما كانت لغة مُضَر بعد الإسلام لغة أمة واحدة، وإنما كانت لغة لجميع الشعوب التي دخلت في دين الله تعالى ۔ اسلام کے بعد عربی زبان ایک قوم کی زبان نہیں رہی۔ بلکہ ان تمام قبائل کی زبان بن گئی جو خدا کے دین میں داخل ہوئے تھے۔ پھر یہ عرب مسلمان اپنے ملک سے باہر نکلے۔ انہوں نے ایک طرف جبل الطارق (Gibraltar) تک اور دوسری طرف کاشغر (Kashgar) تک فتح کر ڈالا۔ ان علاقوں میں مختلف زبانیں رائج تھیں۔ وہ فارسی، قبطی، بربری، عبرانی، سریانی، یونانی، لاطینی، آرامی زبانیں بولتے اور لکھتے تھے۔ ان میں ایسی قومیں بھی تھیں جو اپنے سیاسی نظام اور اپنے تمدن میں عربوں سے بہت زیادہ بڑھی ہوئی تھیں۔ وہ عراق میں داخل ہوئے جو ایک قدیم تمدن کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page