Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اجتماعی انقلابات

Urdu book, p. 261

By Maulana Wahiduddin Khan

حامل تھا اور بڑی بڑی قوموں کا مرکز رہ چکا تھا۔ ان کا ایران سے اختلاط ہوا جو اس وقت کی عظیم ترین شہنشاہیتوں میں سے ایک تھا۔ ان کا تصادم رومی تہذیب اور عیسائی مذہب سے ہوا جو زبردست ترقی کے مقام پر پہنچ چکے تھے۔ ان کا سابقہ شام سے پیش آیا جہاں فینیقی، کنعانی، مصری، یونانی، غسانی قوموں نے اپنے آداب واطوار کے نمایاں اثرات چھوڑے تھے۔ ان کا مقابلہ مصر سے ہوا جہاں مشرق ومغرب کے فلسفے آکر ملے تھے۔ یہ اسباب بالکل کافی تھے کہ عربی میں ایک نیا عمل شروع ہو اور ابتدائی زبان کے ساتھ ان نئے عوامل کے اثر سے ایک اور زبان وجود میں آ جائے جیسا کہ دوسری زبانوں کے ساتھ ہوا۔ مگر اتنے بڑے لسانی بھونچال کے باوجود قرآن اس زبان کے لیے ایک ایسا برتر معیار بنارہا جس نے تمام دوسرے عوامل کو اس کے لیے بے حقیقت بنا دیا۔ اسلام کی فتوحات کے بعد عربی زبان صرف ایک ملک کی زبان نہ رہی بلکہ کئی درج جن ملکوں اور قوموں کی زبان بن گئی۔ ایشیا اور افریقہ کی عجمی اقوام نے جب اسلام قبول کیا تو ان کی زبان بھی دھیرے دھیرے عربی بن گئی۔ فطری طور پر ان غیر ملکی اقوام میں عربی زبان بولنے کی وہ قدرت نہ تھی جو خود عربوں میں تھی۔ ان کی زبان میں اپنی غیر عربی زبانوں کے اثر سے بہت سی خامیاں پیدا ہوگئیں۔ پھر یہی نہیں بلکہ خود عربوں میں جو لوگ زیادہ باشعور نہ تھے، دھیرے دھیرے وہ ان قوموں سے اثر لینے لگے۔ یہاں تک کہ خود ان کی زبان بدلنا شروع ہوگئی۔ بڑے بڑے شہروں میں یہ غلطیاں سب سے زیادہ تھیں ۔ کیونکہ یہاں مختلف قوموں کے لوگ جمع تھے۔ بڑھتے بڑھتے یہ خرابی خواص تک پہنچ گئی۔ زیاد بن امیہ (673-623ء) کے دربار میں ایک بار ایک شخص آیا اور بولا: تُوفِّیَ أَبَانَا وَ تَرَكَ بَنُون (اخبار النحويين ابی طاہر المقری، صفحہ (23)۔ ہمارا باپ مر گیا اور اولاد چھوڑ گیا۔ عربی گریمر کے لحاظ سے، اس جملہ میں ”ابانا“ کی جگہ ”ابونا“ ہونا چاہیے تھا اور ”بنون“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page