Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اجتماعی انقلابات

Urdu book, p. 262

By Maulana Wahiduddin Khan

کی جگہ ”بنیں“۔ اس زمانے میں اس طرح کے بے شمار اختلافات پیدا ہو گئے۔ دیگر تاریخی زبانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہی عربی زبان کے ساتھ بھی لازماً ہوتا۔ مگر یہاں بھی قرآن کی ادبی عظمت عربی کے لیے ڈھال بن گئی اور عربی زبان کی صورت پھر بھی وہی باقی رہی جو قرآن نے اس کے لیے مقرر کر دی تھی۔ اس طرح کے واقعات جو عربی زبان کی پچھلی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں بار بار پیش آئے ہیں قرآن کے معجزہ ہونے کا کھلا ہوا ثبوت ہیں۔ کیونکہ یہ تمام تر قرآن کی عظمت ہی کا نتیجہ تھا جس نے عربی کو کسی تغیری عمل کا معمول بننے نہ دیا۔ دوسری صدی ہجری میں اموی سلطنت کا خاتمہ اور عباسی سلطنت کا قیام عربی زبان کے لیے زبردست فتنہ تھا۔ بنی امیہ کی حکومت خالص عربی حکومت تھی۔ اموی حکمراں عرب قومیت اور عربی زبان و ادب کی حمایت میں جانب داری اور تعصب کی حد تک سخت تھے۔ انہوں نے اپنا پایہ تخت دمشق کو بنایا تھا جو عرب دیہات کی سرحد پر واقع تھا۔ ان کی فوج، دفتری عملہ اور افسران سب عرب ہوا کرتے تھے۔ مگر عباسی حکومت میں ایرانیوں کا غلبہ ہو گیا۔ عباسیوں نے ایرانیوں ہی کی مدد سے بنی امیہ کا خاتمہ کیا تھا، اس لیے ان کے نظم و نسق میں ایرانی اعاجم کا عمل دخل ہو جانا لازمی تھا، حتی کہ عباسیوں نے دار الخلافہ بغداد کو قرار دیا جو ایران سے بہت قریب تھا۔ انہوں نے ایرانیوں کو اتنی چھوٹ دی کہ وہ حکومت کے سارے معاملات میں آزادانہ کارروائیاں کرنے لگے۔ انہوں نے عرب اور عربی تہذیب کو حقارت کی نظر سے دیکھا اور اس کو بالقصد کمزور کرنے کی تدبیریں کرنے لگے۔ عربی عصبیت کے کمزور ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایرانی، ترکی، سریانی، رومی اور بربری عناصر حکومت اور سماج کے تمام معاملات پر چھا گئے۔ عربوں اور غیر عربوں میں رشتہ داریاں قائم ہوئیں۔ آریائی تہذیب اور سامی تہذیب کے ملنے سے زبان اور تہذیب میں نیا انقلاب آگیا۔ اکاسرہ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page