اجتماعی انقلابات
Urdu book, p. 263
By Maulana Wahiduddin Khan
پوتے اور قدیم جاگیرداروں کے بیٹے پھر سے ابھر آئے۔ انہوں نے اپنے آبا واجداد کی تہذیب کو از سر نو زندہ کرنے کی کوشش شروع کردی۔ ان واقعات کا عربی زبان پر بہت گہرا اثر پڑا۔ متنبی (965-915ء) کے زمانہ میں عربی کی جو حالت ہوچکی تھی، اس کا اندازہ اس کے چند اشعار سے ہوتا ہے: مغانی الشعب طيباً في المغاني بمنزلةِ الربيع مِنَ الزّمانِ ولكنَّ الفتَى العربيَّ فيها عَزِيب الوجهِ واليدِ واللسانِ ملاعِبُ جنّةٍ لو سَارَ فيها سليمان لَسَارَ بترجمان شرح دیوان المتنبی (بیروت 1938) صفحہ 384 "شعب بوان (ایران) کے مکانات عمدگی میں تمام مکانوں سے اسی طرح بڑھے ہوئے ہیں جس طرح زمانہ کی تمام فصلوں میں بہار کی فصل۔ مگر اس بستی میں ایک عرب جوان (میں) اپنے چہرہ، ہاتھ اور زبان کے لحاظ سے بالکل اجنبی ہے۔ سلیمان جن کے تابع جنات تھے (جو جانوروں تک کی بولیاں سمجھتے تھے) اگر اس علاقہ میں آئیں تو انہیں اپنے ساتھ ترجمان رکھنا پڑے گا۔" ترکوں اور کردوں نے بھی اس سلسلے میں ایرانیوں کی تقلید کی۔ مگر قرآن کی ادبی عظمت عربی زبان کے لیے ڈھال بنی رہی۔ اس قسم کی کوششوں سے وقتی ہلچل تو ضرور پیدا ہوئی مگر جلد ہی وہ دب کر رہ گئی اور عربی زبان میں کوئی مستقل تبدیلی پیدا نہ کرسکی۔ خلیفہ متوکل (207-247 ھ) کے بعد عجمی اقوام، ایرانی اور ترک، عرب علاقہ میں بہت زیادہ دخیل ہوگئے۔ 656 ھ میں ہلاکو خاں نے بغداد کی سلطنت کو برباد کردیا۔ 898 ھ میں اندلس کی عرب حکومت کو یورپی اقوام نے ختم کردیا۔ 923 ھ میں مصر و شام سے فاطمیوں کا خاتمہ ہو گیا اور ان عرب علاقوں کی حکومت عثمانی ترکوں کے قبضہ میں چلی گئی۔ اسلامی حکومت کا دارالسلطنت قاہرہ کے بجائے قسطنطنیہ ہوگیا۔ سرکاری زبان عربی کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader