Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اجتماعی انقلابات

Urdu book, p. 264

By Maulana Wahiduddin Khan

بجائے ترکی قرار پائی۔ عربی زبان میں غیر زبان کے الفاظ اور اسالیب کثرت سے آنے لگے۔ عالم عرب پر ساڑھے پانچ سوسال ایسے گزرے ہیں جب کہ تمام عرب دنیا عجبی بادشاہوں کے جھنڈے کے نیچے رہی، حتیٰ کہ مغل ، ترک اور ایرانی حکمران عرب آثار تک کو مٹانے پر تلے رہے۔ عربی کے کتب خانے جلائے گئے، مدرسے اجاڑے گئے، علماء کو ذلیل کیا گیا۔ عثمانی سلطنت نے اپنی ساری طاقت کے ساتھ عربوں کو ترک بنانے کی وہ مہم چلائی جس کو جمال الدین افغانی نے بجاطور پر تتريك العرب“ کہا ہے۔ مگر ان میں سے کوئی واقعہ بھی عربی زبان میں کوئی مستقل تبدیلی پیدا نہ کر سکا۔ بغداد و بخارا میں تاتاریوں نے، شام میں صلیبیوں نے اور اندلس میں یورپی قوموں نے عربی زبان و ادب اور عرب تہذیب کو جو نقصانات پہنچائے وہ عربی زبان کا نام ونشان مٹانے کے لیے بالکل کافی تھے ۔ اس کے بعد، دوسری زبانوں کی تاریخ کے مطابق ، یہ ہونا چاہیے تھا کہ عربی زبان اپنی دیگر سامی زبانوں سے مل جاتی ۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ترکوں کی جہالت اور ایرانیوں کا تعصب اگر حائل نہ ہوا ہوتا تو عربی زبان آج تمام دنیا کے مسلمانوں کی واحد زبان ہوتی ۔ تاہم جہاں تک عرب علاقہ کا تعلق ہے، وہاں اس کا بدستور اپنی سابقہ شان میں باقی رہ جانا تمام تر قرآن ہی کا معجزہ تھا۔ قرآن کی عظمت نے اس مدت میں لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ عربی زبان سے اپنا تعلق حکومت واقتدار کے علی الرغم باقی رکھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں بھی بے شمار ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے عربی زبان و ادب کی خدمت کی۔ مثال کے طور پر ابن منظور (630-711ء)، ابن خلدون (808-732ھ) وغیرہ۔ نپولین (1769-1821ء) کے قاہرہ میں داخلہ 1798ء کے بعد جب مصر میں پریس آیا اور تعلیم کا دور دورہ ہوا تو عربی زبان کو نئی زندگی ملی تاہم پچھلے سیکڑوں برس کے حالات نے یہ صورت حال پیدا کر دی تھی کہ مصر و شام کے دفاتر کی زبان ترکی و عربی کا ایک مرکب تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page