پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 265
By Maulana Wahiduddin Khan
1882 میں مصر پر انگریزوں کے قبضے کے بعد پھر صورت حال بدلی۔ انہوں نے عربی کے خلاف اپنی ساری طاقت لگادی۔ تمام تعلیم انگریزی کے ذریعہ لازمی کردی گئی۔ مختلف زبانیں سکھانے کے ادارے ختم کردیئے گئے۔ اسی طرح جن عرب علاقوں پر فرانسیسیوں کا غلبہ ہوا، وہاں انہوں نے فرانسیسی کو رواج دیا۔ مگر تقریباً سو سال تک انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کے غلبہ کے باوجود عربی زبان بدستور اپنی اصل حالت پر باقی رہی۔ اس میں الفاظ کی وسعت ضرور پیدا ہوئی۔ مثال کے طور پر ٹینک کے لیے دبابہ کا لفظ رائج ہوا جو پہلے معمولی منجنیق کے لیے بولا جاتا تھا۔ اسی طرح طرزِ بیان میں وسعت پیدا ہوئی۔ مثلاً مسلمانوں کے حالات پر آج ایک کتاب شائع ہو تو اس کا نام رکھا جاتا ہے لماذا اسلمنا جب کہ اس سے پہلے مسجع و مقفیٰ ناموں کا رواج تھا۔ اسی طرح بہت سے الفاظ معرب ہو کر رائج ہوئے مثلاً دکتور (ڈاکٹر)۔ مگر اس سے اصل زبان میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اصل زبان بدستور وہی آج بھی ہے جو قرآن کے نزول کے وقت مکہ میں رائج تھی۔ ادبی ارتقاء زبانوں میں تبدیلی کا دوسرا سبب ادیبوں اور مصنفوں کے کارنامے ہیں۔ جب بھی کوئی غیر معمولی ادیب یا مصنف پیدا ہوتا ہے، وہ زبان کو کھینچ کر نئے لسانی اسلوب کی طرف لے جاتا ہے۔ اس طرح زبان تبدیلی اور ارتقاء کے مراحل طے کرتی رہتی ہے، اور بدلتے بدلتے کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے۔ عربی زبان میں، اس کے برعکس، ایسا ہوا کہ قرآن نے اول روز ہی ایسا برتر معیار سامنے رکھ دیا کہ کسی انسانی ادیب کے لیے ممکن نہ ہو سکا کہ وہ اس سے اوپر جاسکے۔ اس لیے عربی زبان اسی اسلوب پر باقی رہی جو قرآن نے اس کے لیے مقرر کر دیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں، عربی زبان میں، قرآن کے بعد کوئی دوسرا ”قرآن“ نہ لکھا جاسکا۔ اس لیے زبان بھی قرآنی زبان کے سوا کوئی اور زبان نہ بن سکی۔ انگریزی زبان کی مثال لیجیے۔ ساتویں صدی عیسوی میں وہ ایک معمولی مقامی بولی کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader