ادبی ارتقاء
Urdu book, p. 266
By Maulana Wahiduddin Khan
حیثیت رکھتی تھی جس میں کسی علمی خیال کو ظاہر کرنا ممکن نہ تھا۔ پانچ سو برس سے بھی زیادہ عرصہ تک یہی حال رہا۔ انگریزی زبان کا معمار اول جافرے چاسر (Geoffrey Chaucer) پیدا ہوا تو انگلستان کی در باری زبان فرانسیسی تھی۔ چاسر جو لاطینی، فرانسیسی اور اطالوی زبانیں جانتا تھا، اس نے انگریزی میں اشعار کہے اور نظمیں لکھیں۔ اپنی غیر معمولی ذہانت اور دیگر زبانوں سے واقفیت کی وجہ سے وہ اس میں کامیاب ہوسکا کہ انگریزی بولی کو آگے لے جائے اور اس کو ایک علمی زبان کا روپ دے۔ ہاسر (Ernest Hauser) کے الفاظ میں اس نے کامیاب نظموں کے ذریعہ انگریزی کو ایک مضبوط بڑھاوا (Firm Boost) دیا۔ اس نے ایک بولی کو ایسی طاقت ور زبان بنا دیا جس میں ترقی کے نئے امکانات چھپے ہوئے تھے (ریڈرز ڈائجسٹ، جون 1975ء)۔ دو سو برس تک چاسر انگریزی شاعروں اور ادیبوں کا رہنما بنا رہا۔ یہاں تک کہ ولیم شیکسپیئر (165-1558ء) کا ظہور ہوا جس نے چاسر سے زیادہ برتر ادب کا نمونہ پیش کیا۔ اپنے اشعار اور ڈراموں کے ذریعہ اس نے انگریزی کو دوبارہ ایک نیا معیار عطا کیا۔ اب انگریزی زبان ایک قدم اور آگے بڑھی اور ترقی کی نئی شاہراہ پر سفر کرنے لگی۔ یہ دور تقریباً ایک سو برس تک رہا، یہاں تک کہ سائنس کے ظہور نے زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح ادب میں بھی، دوبارہ نئے معیار قائم کرنے شروع کیے۔ اب شعر کے بجائے نثر، اور افسانہ نویسی کے بجائے واقعہ نگاری کو اہمیت ملنے لگی۔ اس کے اثر سے انگریزی میں سائنٹفک اسلوب وجود میں آیا، سویفٹ (Jonathan Swift, 1667-1745) سے لے کر ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ (T.S. Eliot, 1888-1965) تک درجنوں ادیب پیدا ہوئے جنہوں نے زبان کو وہ نیا معیار عطا کیا جس سے اب ہم گزر رہے ہیں۔ یہی عمل تمام زبانوں میں ہوا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا زیادہ بہتر لکھنے والا ادیب یا ادیبوں کا گروہ اٹھتا ہے اور وہ زبان کو نیا اسلوب دے کر نئے مرحلے کی طرف لے جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader