ادبی ارتقاء
Urdu book, p. 267
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ اس طرح زبان بدلتی رہتی ہے یہاں تک کہ چند صدیاں گزرنے کے بعد اتنا فرق ہو جاتا ہے کہ اگلے لوگ پچھلی زبان کو لغات اور شرح کے بغیر سمجھ ہی نہ سکیں۔ اس کلیہ سے صرف ایک زبان مستثنیٰ ہے اور وہ عربی زبان ہے۔ یہی واقعہ قرآن کے اس دعویٰ کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ کوئی شخص قرآن جیسی کتاب وضع نہیں کر سکتا۔ بلا شبہ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ پچھلی صدیوں میں متعدد لوگوں نے قرآن کے جواب میں دوسرا قرآن لکھنے کی کوشش کی، مگر سب کے سب نا کام رہے۔ مثال کے طور پر مسیلمہ بن حبیب، طلحہ بن خویلد، نضر بن الحارث، ابن الراوندی، ابو العلاء المعری، ابن المقفع، متنبی وغیرہ۔ اس سلسلے میں ان کی جو عبارتیں نقل کی گئی ہیں، وہ اتنی سطحی ہیں کہ قرآن کے مقابلہ میں ان کو رکھنا بھی مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے۔ مثلاً مسیلمہ کے قرآن کا ایک حصہ یہ تھا: يَا ضِفْدَعُ بِنْتَ الضِّفْدَعَينِ، نَقِّي كَمْ تَنْقِّينَ، لَا الْمَاءَ تُكَدِّرِينَ، وَلَا الشَّارِبَ تَمْنَعِين (البداية والنهاية، جلد 9، صفحہ 473)۔ یعنی، اے مینڈک کی جتنا ٹرا سکے ٹرا لے، تو نہ پانی کو گدلا کرے گی نہ پینے والوں کو روکے گی۔ اسی طرح مسیلمہ کا ایک اور الہام یہ تھا: لَقَدْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى الْحُبْلَى، أَخْرَجَ مِنْهَا نَسَمَةً تَسْعَى، مِنْ بَيْنِ صِفَاقٍ وَحَشَى (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 577)۔ یعنی، اللہ نے حاملہ عورت پر بڑا انعام کیا ہے، اس کے اندر سے دوڑتی ہوئی جان نکالی، جھلی اور پیٹ کے اندر سے۔ تاہم اس سے بھی زیادہ بڑا ثبوت وہ مسلسل واقعہ ہے جس کو فرینچ مستشرق ارنسٹ ریناں (Ernest Renan, 1823-1892) نے ایک لسانی عجوبہ قرار دیا ہے جس طرح دوسری زبانوں میں زبان آور پیدا ہوئے ۔ اسی طرح عربی میں بھی شعراء اور ادبا اور مصنفین پیدا ہوئے اور پیدا ہو رہے ہیں، مگر اس پوری مدت میں کوئی ایسا زبان داں نہ اٹھا جو قرآن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader