ادبی ارتقاء
Urdu book, p. 268
By Maulana Wahiduddin Khan
سے برتر ادب پیش کر کے عربی میں نیا لسانی معیار قائم کرتا اور زبان کو نئے مرحلہ کی طرف لے جاتا۔ اس لیے زبان اسی مرحلہ ترقی پر قائم رہی جو قرآن نے اس کے لیے مقرر کر دیا تھا۔ اگر دوسری زبانوں کی طرح عربی زبان میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوتے جو قرآن کے مقابلہ میں زیادہ اعلی ادب کا نمونہ پیش کرتے تو ناممکن تھا کہ زبان ایک مقام پر رکی رہے۔ قرآن کی مثال عربی زبان میں ایسی ہی ہے جیسے کسی زبان میں آخری اعلیٰ ترین ادیب اول روز ہی پیدا ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد کوئی ایسا ادیب نہیں ابھرے گا جو زبان میں کوئی تبدیلی پیدا کر سکے۔ قرآن کے نزول کے زمانہ میں جو زبان عرب میں رائج تھی، اس کو ترقی دے کر قرآن نے اعلیٰ ترین ادب کی شکل میں ڈھال دیا۔ اس کے بعد اس میں تبدیلی کا کوئی سوال نہ تھا۔ قرآن نے عربی کے روایتی اسالیب پر اضافے کر کے اس میں توسیع کا دروازہ کھولا۔ مثال کے طور پر سورہ اخلاص میں لفظ ”احد“ کا استعمال۔ عربی زبان میں اس سے پہلے یہ لفظ مضاف مضاف الیہ کے طور پر استعمال ہوتا آیا تھا جیسے یوم الاحد (ہفتے کا دن) یا نفی عام کے لیے جیسے ما جاءنی احد (میرے پاس کوئی نہیں آیا) وغیرہ۔ مگر قرآن نے یہاں لفظ احد کو ہستی باری تعالیٰ کے لیے وصف کے طور پر استعمال کیا جو عربی زبان میں غیر معمولی تھا۔ عربی میں دوسری زبانوں کے الفاظ شامل کیے۔ مثلاً استبرق (فارسی) قسورہ (حبشی) صراط (یونانی) یم (سریعانی) غساق (ترکی) قسطاس (رومی) ملکوت (آرامی) کافور (ہندی) وغیرہ۔ مکہ کے مشرکین نے جب کہا تھا کہ وَمَا الرَّحْمٰنُ (الفرقان، 25:60) تو اس کا لسانی پس منظر یہ تھا کہ رحمان کا لفظ عربی نہیں ہے، یہ سبائی اور حمیری زبان سے آیا ہے۔ یمن اور حبشہ کے نصرانی اللہ کو رحمن کہتے تھے۔ قرآن نے اس لفظ کی تعریب کر کے اس کو اللہ کے لیے استعمال کیا تو مکہ والوں کو وہ اجنبی محسوس ہوا۔ انہوں نے کہا ”رحمان کیا“

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader