ادبی ارتقاء
Urdu book, p. 269
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں غیر عربی الاصل الفاظ ایک سو سے زیادہ شمار کیے گئے ہیں جو فارسی، رومی، نبطی، حبشی، عبرانی، سریانی قبطی وغیرہ زبانوں سے لیے گئے ہیں۔ قرآن اگر چہ قریش کی زبان میں اترا۔ مگر دوسرے قبائل عرب کی زبان بھی اس میں شامل کی گئی۔ مثلاً قرآن میں ’’فاطر‘‘ کا لفظ آیا ہے، عبداللہ بن عباس جو ایک قریشی مسلمان تھے، کہتے ہیں: کُنْتُ لَا أَدْرِي مَا فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، حَتَّى أَتَانِي أَعْرَابِيَّانِ يَخْتَصِمَانِ فِي بِئْرٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَنَا فَطَرْتُهَا، أَيْ: بَدَأْتُهَا (تفسیر ابن کثیر، جلد 6، صفحہ 471)۔ میں فاطر السماوات والارض کے معنی نہیں سمجھتا تھا یہاں تک کہ دو اعرابی میرے پاس جھگڑتے ہوئے آئے، ان میں سے ایک نے کہا: اَنَا فَطَرْتُھَا یعنی میں نے کنواں کھودنا شروع کیا تھا۔ تب میں اس کو سمجھا۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں: وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3427)۔ یعنی، میں نے سکین (چھری) کا لفظ پہلی بار قرآن کی آیت (12:31) سے جانا۔ اس سے پہلے ہم اس کو مد یہ کہا کرتے تھے۔ بہت سے الفاظ ایسے تھے جن کے مختلف لہجے عرب قبائل میں رائج تھے۔ قرآن نے ان میں سے فصیح تر لفظ کا انتخاب کر کے اس کو اپنے ادب میں استعمال کیا۔ مثلاً قریش کے یہاں جس مفہوم کے لیے اعطی کا لفظ تھا اس کے لیے حمیری کے یہاں انطی بولا جاتا تھا۔ قرآن نے انطی کو چھوڑ کر اعطی کا انتخاب کیا۔ اسی طرح شناتر کی جگہ اصابع، کتع کی جگہ ذئب وغیرہ۔ قرآن اصلاً قریش کی زبان میں اترا ہے۔ مگر بعض مقامات پر قریش کی زبان کو چھوڑ کر کسی دوسرے قبیلے کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر لا یلتکم من اعمالکم بنی عبس کی زبان ہے (الاتقان فی علوم القرآن، جلد 3، صفحہ 895)۔ اس طرح قرآن نے الفاظ اور اسالیب کو نئی وسعتیں اور نیا حسن دے کر ایک اعلیٰ عربی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader