ادبی ارتقاء
Urdu book, p. 270
By Maulana Wahiduddin Khan
ادب کا نمونہ قائم کر دیا۔ یہ نمونہ اتنا بلند تھا کہ اس کے بعد کوئی ادیب اس سے برتر معیار پیش نہ کر سکا۔ اس لیے عربی زبان ہمیشہ کے لیے قرآن کی زبان ہو کر رہ گئی۔ عربوں میں جو امثال اور تعبیرات قدیم زمانہ سے رائج تھیں، ان کو قرآن نے زیادہ بہتر پیرایہ میں ادا کیا۔ مثلاً زندگی کی بے ثباتی کو قدیم عربی شاعر کعب بن زہیر نے ان لفظوں میں نظم کیا تھا: كُلُّ ابْنِ أُنْثَى، وإن طالتْ سَلامتُهُ يَوْماً عَلى آلِةٍ حَدْبَاءَ مَحْمُولُ ہر آدمی خواہ وہ کتنے ہی عرصہ تک صحیح و سالم رہے، ایک دن بہر حال وہ تابوت کے اوپر اٹھایا جائے گا۔ قرآن نے اس تصور کو ان لفظوں میں ادا کیا: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185)۔ یعنی، ہر شخص کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ قدیم عرب میں قتل و غارت گری سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ اس صورت حال نے چند فقرے پیدا کیے تھے جو اس زمانہ میں فصاحت کا کمال سمجھے جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ قتل کا علاج قتل ہے۔ اس تصور کو انہوں نے حسب ذیل مختلف الفاظ میں موزوں کیا تھا: قَتْلُ الْبَعْضِ اِحْيَاءُ لِلْجَمْعِ بعض لوگوں کا قتل سب کی زندگی ہے اَکْثِرُو الْقَتْلَ لِيُقَلِّلَ الْقَتْلُ قتل کی زیادتی کروتا کہ قتل کم ہو جائے اَلْقَتْلُ اَنْفٰی لِلْقَتْلِ قتل کو سب سے زیادہ روکنے والی چیز قتل ہے قرآن نے اس تصور کو ان لفظوں میں ادا کیا: وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (2:179)۔ یعنی، اور اے عقل والو، قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے تا کہ تم بچو۔ قرآن سے پہلے عربی میں اور دنیا کی تمام زبانوں میں شعر کو بلند مقام حاصل تھا۔ لوگ شعر کے اسلوب میں اپنے خیالات کو ظاہر کرنا کمال سمجھتے تھے۔ قرآن نے اس عام روش کو چھوڑ کر نثر کا اسلوب اختیار کیا۔ یہ واقعہ بجائے خود قرآن کے کلام الہی ہونے کا ثبوت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader