ادبی ارتقاء
Urdu book, p. 271
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ کیوں کہ ساتویں صدی کی دنیا میں صرف زندہ اور ہمیشہ رہنے والا خدا ہی اس بات کو جان سکتا تھا کہ انسانیت کے نام ابدی کتاب بھیجنے کے لیے اسے نثر کا اسلوب اختیار کرنا چاہیے، نہ کہ شعر کا، جو مستقبل میں غیر اہم ہو جانے والا ہے۔ اسی طرح پہلے کسی بات کو مبالغہ کے ساتھ کہنا ادب کا کمال سمجھا جاتا تھا۔ قرآن نے تاریخ ادب میں پہلی بار واقعہ نگاری کو رواج دیا۔ پہلے جنگ اور عاشقی سب سے زیادہ مقبول مضامین تھے۔ قرآن نے اخلاق، قانون، سائنس، نفسیات، اقتصادیات، سیاسیات، تاریخ وغیرہ مضامین کو اپنے اندر شامل کیا۔ پہلے قصہ کہانی میں بات کہی جاتی تھی، قرآن نے براہ راست اسلوب کو اختیار کیا۔ پہلے قیاسی منطق (syllogism) کو ثبوت کے لیے کافی سمجھا جاتا تھا، قرآن نے علمی استدلال کی حقیقت سے دنیا کو باخبر کیا۔ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ساری چیزیں قرآن میں اتنے بلند اسلوب کلام میں بیان ہوئیں کہ اس کے مثل کوئی کلام پیش کرنا انسان کے امکان سے باہر ہے۔ قدیم عرب میں یہ مقولہ تھا کہ اَعْذَبُ الشِّعْرِ اَکْذَبُہ (تاریخ النقد الادبی عند العرب للڈ کتور احسان عباس، صفحہ 170)۔ یعنی، سب سے زیادہ میٹھا شعر وہ ہے جس میں سب سے زیادہ جھوٹ ہو۔ مگر قرآن نے ایک نیا طرز بیان (الاحزاب، 33:70؛ الرحمن، 55:4) پیدا کیا، جس میں فرضی مبالغوں کے بجائے واقعیت تھی، اس نے حقیقت پسند ادب کا نمونہ پیش کیا۔ قرآن عربی زبان و ادب کا حاکم بن گیا۔ ادب جاہلی کا جو سرمایہ آج محفوظ ہے، وہ سب قرآن کی زبان کو محفوظ رکھنے اور اس کو سمجھنے کے لیے جمع کیا گیا۔ اسی طرح صرف و نحو، معانی و بیان، لغت و تفسیر، حدیث و فقہ، علم کلام، سب قرآن کے معانی و مطالب کو حل کرنے اور اس کے اوامر و نواہی کی شرح کرنے کے لیے وجود میں آئے۔ حتی کہ عربوں نے جب تاریخ و جغرافیہ اور دیگر علوم کو اپنایا تو وہ بھی قرآن کے احکام و ہدایت کو سمجھنے اور ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader