ادبی ارتقاء
Urdu book, p. 272
By Maulana Wahiduddin Khan
پر پوری طرح عمل پیرا ہونے کی ایک کوشش تھی۔ قرآن کے سوا تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ہے کہ کسی ایک کتاب نے کسی قوم کو اتنا زیادہ متاثر کیا ہو ۔ قرآن نے عربی زبان میں تصرف کرکے جو اعلیٰ تر ادب تیار کیا، وہ اتنا ممتاز اور بدیہی ہے کہ کوئی بھی عربی جاننے والا شخص کسی بھی دوسری عربی کتاب کی زبان سے قرآن کی زبان کا تقابل کرکے ہر وقت اسے دیکھ سکتا ہے۔ قرآن کا الہیٰ ادب عام انسانی ادب سے اتنا نمایاں طور پر فائق ہے کہ کوئی عربی داں اس کو تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہاں ہم مثال کے لیے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں جس سے اس فرق کا بخوبی اندازہ ہو سکے۔ طنطاوی جوہری (1940-1870) لکھتے ہیں: ”13 جون 1932 کو میری ملاقات مصری ادیب استاذ کامل گیلانی (1959-1897) سے ہوئی۔ انہوں نے ایک عجیب واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے کہا، میں امریکی مستشرق فنکل (Finkel, Joshua 1904-1983) کے ساتھ تھا۔ میرے اور ان کے درمیان ادبی رشتہ سے گہرے تعلقات تھے۔ ایک دن انہوں نے میرے کان میں چپکے سے کہا”کیا تم بھی انہی لوگوں میں ہو جو قرآن کو ایک معجزہ مانتے ہیں“۔ یہ کہہ کر وہ ایک معنی خیز ہنسی ہنسے جس کا مطلب یہ تھا کہ اس عقیدہ کی کوئی حقیقت نہیں۔ محض تقلیداً مسلمان اس کو مانتے چلے جارہے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ انہوں نے ایسا تیر مارا ہے جس کا کوئی روک نہیں۔ ان کا یہ حال دیکھ کر مجھے بھی ہنسی آگئی۔ میں نے کہا: قرآن کی بلاغت کے بارے میں کوئی حکم لگانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تجربہ کرکے دیکھ لیں کہ کیا ہم اس جیسا کلام مرتب کر سکتے ہیں۔ تجربہ کرکے خود بخود اندازہ ہو جائے گا کہ ہم ویسا کلام تیار کرنے پر قادر ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد میں نے استاذ فنکل سے کہا کہ آئیے ہم ایک قرآنی تصور کو عربی الفاظ میں مرتب کریں۔ وہ تصور یہ کہ ”جہنم بہت وسیع ہے“ انہوں نے اس رائے سے اتفاق کیا اور ہم دونوں قلم کاغذ لے کر بیٹھ گئے۔ ہم دونوں نے مل کر ”تقریباً بیس جملے عربی کے بنائے جس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader