ادبی ارتقاء
Urdu book, p. 274
By Maulana Wahiduddin Khan
ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا، قرآن میں کیا ہے۔ میں نے سورہ ق کی آیت نمبر 30 پڑھی: يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ (جس دن ہم جہنم سے کہیں گے، کیا تو بھر گئی۔ اور وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے )۔ یہ سن کر ان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ وہ اس بلاغت کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا: صدقت نعم صدقت و انا اقرر لك ذلك مغتبطا من كل قلبي ( آپ نے سچ کہا بالکل سچ۔ میں کھلے دل سے اس کا اقرار کرتا ہوں )۔ میں نے کہا: یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ آپ نے حق کا اعتراف کر لیا۔ کیوں کہ آپ ادیب ہیں اور اسالیب کی اہمیت کا آپ کو پورا اندازہ ہے۔ یہ مستشرق انگریزی، جرمن، عبرانی، اور عربی زبانوں سے بخوبی واقف تھا۔ لٹریچر کے مطالعہ میں اس نے اپنی عمر صرف کر دی تھی (الشیخ طنطاوی جوهری، الجواهر فی تفسیر القرآن الکریم، مصر 1351ھ، جلد 23، صفحات :12-111 )۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader