پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 275
By Maulana Wahiduddin Khan
اصحاب رسول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سادہ لفظوں میں محض اصحاب نہ تھے بلکہ وہ خود تاریخ رسالت کا لازمی جزء تھے۔ اللہ نے ان کو اس لیے منتخب کیا تھا کہ وہ اللہ کے رسول کے معاون بنیں۔ وہ آپ کے شریک کار بن کر اس ربانی مشن کو تکمیل تک پہنچائیں جو آپ کے ذریعہ پورا کیا جانا مطلوب تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اصحاب رسول کے بارے میں فرمایا: ان کو اللہ نے اپنے رسول کی صحبت کے لیے اور اپنے دین کی اقامت کے لیے چن لیا تھا (اخْتَارَهُمُ اللهُ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ، وَإِقَامَةِ دِينِهِ) مسند احمد، حدیث نمبر 12375۔ اصحاب رسول کو ان کی کن خصوصیات نے یہ تاریخی مقام دیا، اس سلسلے میں اس کے چند پہلو یہاں مختصر درج کیے جاتے ہیں۔ دین ان کے لیے محبوب چیز بن گیا تھا اصحاب رسول کی خصوصیت قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ ایمان ان کے لیے ایک محبوب شئے بن گیا تھا (الحجرات، 49:7)۔ محبت کسی چیز سے تعلق کا آخری درجہ ہے۔ اور جب کسی چیز سے محبت کے درجہ کا تعلق پیدا ہو جائے تو وہ آدمی کے لیے ہر چیز کا بدل بن جاتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کا ذہن اس چیز کے بارے میں اس طرح متحرک ہو جاتا ہے کہ آدمی بغیر بتائے ہوئے اس سے متعلق ہر بات کو جان لیتا ہے۔ اس کو خواہ معروف معنوں میں کوئی نقشہ کار نہ دیا گیا ہو مگر اس کا ذہن خود بتا دیتا ہے کہ اس کو اپنی محبوب شئے کے لیے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے (التوبہ، 9:46)۔ محبت کی سطح کے تعلق کا مطلب ہے دل چسپسی کی سطح کا تعلق۔ یعنی یہ کہ آدمی اسلام کے نفع نقصان کو خود اپنا نفع نقصان سمجھنے لگے۔ اصحاب رسول کو اسلام سے اسی قسم کا تعلق پیدا ہو گیا تھا۔ وہ اسلام کے فائدے سے اسی طرح خوش ہوتے تھے جس طرح کوئی شخص اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader