Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

چیز بن گیا تھا

Urdu book, p. 276

By Maulana Wahiduddin Khan

بیٹے کی کامیابی سے خوش ہوتا ہے۔ اسلام کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ اسی طرح بے چین ہو جاتے تھے جیسے کوئی شخص اپنے بیٹے کے متعلق ناخوش گوار خبر سن کر تڑپ اٹھتا ہے اور اس وقت تک اسے چین نہیں آتا جب تک وہ اس کی تلافی نہ کرلے۔ کسی چیز سے محبت کے درجے کا تعلق پیدا ہو جائے تو آدمی کا ذہن اس کے بارے میں پوری طرح جاگ اٹھتا ہے۔ وہ اس کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ اس کی ضرورت اور تقاضوں کو وہ بتائے بغیر جان لیتا ہے۔ اس کی بات کو پانے کے لیے کوئی نفسیاتی گرہ اس کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔ اس کے راستے میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لیے وہ کسی چیز کو عذر نہیں بناتاج جب آدمی کسی معاملہ کو اپنا معاملہ سمجھ لے تو اس کے بعد اس کو نہ زیادہ بتانے کی ضرورت ہوتی اور نہ زیادہ سمجھانے کی۔ اس کا قلبی تعلق اس کے لیے ہر دوسری چیز کا بدل بن جاتا ہے۔ وہ کسی معاویضہ کی امید کے بغیر یک طرفہ طور پر اپنا سب کچھ اس کے لیے لٹا دیتا ہے۔ اس کی خاطر کھونا بھی اس کو پانا معلوم ہوتا ہے۔ اس کی خاطر بے قیمت ہو جانا اس کی نظر میں سب سے زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے وہ ہر دوسری مصلحت کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس کے لیے وہ ہر تکلیف کو اس طرح سہہ لیتا ہے جیسے کہ وہ کوئی تکلیف ہی نہ ہو۔ اصحاب رسول کوئی غیر معمولی انسان نہ تھے۔ وہ کوئی ماورائے بشر مخلوق نہیں تھے۔ ان کی خصوصیت صرف یہ تھی کہ ''محبت‘‘ کے درجہ کا تعلق جو عام انسانوں کو صرف اپنے آپ سے ہوتا ہے وہی تعلق ان کو دین و ایمان سے ہو گیا تھا۔ عام آدمی اپنے مستقبل کی تعمیر کو جو اہمیت دیتا ہے وہی اہمیت وہ اسلام کے مستقبل کی تعمیر کو دینے لگے تھے۔ وہ دین کے لیے اپنا حصہ ادا کرنے کو اتنا ہی ضروری سمجھتے تھے جتنا کوئی شخص اپنی ذاتی دل چسپی کے معاملہ میں اپنے آپ کو اور اپنے اثاثہ کو استعمال کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ ان کی یہی خصوصیت تھی کہ وہ تاریخ کے وہ گروہ بنے جس نے اسلام کو عظیم ترین کامیابی کے مقام تک پہنچایا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page