پیغمبر کو آغازِ تاریخ میں پہچاننا
Urdu book, p. 277
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر کو آغاز تاریخ میں پہچاننا صحابہ کی یہ انوکھی صفت تھی کہ انہوں نے اپنے ایک معاصر رسول کو پہچانا اور اس کا ساتھ دیا۔ یہ کام اتنا مشکل ہے کہ معلوم تاریخ میں جماعت کی سطح پر صرف ایک بار پیش آیا ہے۔ قدیم تاریخ کے ہر دور میں یہ قصہ پیش آیا کہ رسولوں کے مخاطبین نے ان کا انکار کیا اور ان کا مذاق اڑایا۔ بائبل میں ہے کہ ’’تم نے میرے نبیوں کو ناچیز جانا‘‘ (امثال، 1:25)۔ نبیوں کو ناچیز جاننے والے کون لوگ تھے ۔ یہ وہ لوگ تھے جو وحی ورسالت کو مانتے تھے۔ نبیوں کے نام پر ان کے یہاں ادارے قائم تھے اور بڑے بڑے جشن ہوتے تھے۔ مگر یہ سب کچھ قدیم نبیوں کے نام پر ہوتا تھا۔ جہاں تک وقت کے نبی کا سوال تھا، اس کے لیے ان کے پاس استہزا و تمسخر کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہودیوں نے حضرت مسیح کا انکار کیا، حالانکہ وہ موسیٰ کو مانتے تھے۔ نصاریٰ نے حضرت محمد کا انکار کیا، حالانکہ وہ حضرت مسیح کی پرستش کی حد تک عزت کرتے تھے۔ اسی طرح قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر مارے اور آپ کو گھر سے نکالا، حالانکہ وہ حضرت ابراہیم کے وارث ہونے پر فخر کرتے تھے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم نبی کی نبوت تاریخی روایات کے نتیجہ میں ثابت شدہ نبوت بن جاتی ہے۔ وہ کسی قوم کے قومی اثاثہ کا ایک لازمی جزء ہوتی ہے۔ کسی قوم میں آنے والا نبی اس کی بعد کی نسلوں کے لیے ایک طرح کا مقدس ہیرو بن جاتا ہے۔ اس کو ماننا اپنے قومی تشخص کو قائم کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے نبی کو کون نہیں مانے گا۔ مگر وقت کے نبی کی نبوت ایک متنازعہ نبوت ہوتی ہے۔ وہ التباس کے پردہ میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کو ماننے کے لیے ظواہر کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو دیکھنا پڑتا ہے۔ اس کا ساتھ دینے کے لیے اپنی انا کو دفن کرنا ہوتا ہے۔ اس کے مشن کی راہ میں اپنا سرمایہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader