پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 278
By Maulana Wahiduddin Khan
خرچ کرنا ایک ایسے مشن کی راہ میں اپنا سرمایہ خرچ کرنا ہوتا ہے جس کا بر سر حق ہونا ابھی اختلافی ہو، جس کے بارے میں تاریخ کی تصدیقات ابھی جمع نہ ہوئی ہوں۔ صحابہ کرام وہ لوگ تھے جنہوں نے معاصر رسول کو اس طرح مانا جس طرح کوئی شخص تاریخی رسول کو مانتا ہے۔ غزوۂ خندق میں جب محاصرہ شدید ہوا اور معمولی ضروریات کی فراہمی ناممکن ہو گئی تو ایک مسلمان کی زبان سے یہ جملہ نکل گیا کہ محمد ہم سے وعدہ کرتے تھے کہ ہم کسریٰ اور قیصر کے خزانے حاصل کریں گے اور اب یہ حال ہے کہ ہمارا ایک شخص بیت الخلا جانے کے لیے بھی محفوظ نہیں (کَانَ مُحَمَّدٌ يَعِدُنَا أَنْ نَّأْكُلَ كُنُوزَ كِسْرَىٰ وَقَيْصَرَ، وَأَحَدُنَا لَا يَأْمَنُ أَنْ يَذْهَبَ إِلَى الْغَائِطِ) سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 222۔ غزوۂ خندق کے وقت رسول اللہ کا وعدہ محض ایک لفظی وعدہ تھا، آج یہ ایک تاریخی واقعہ بن چکا ہے۔ صحابہ نے اس وعدہ کے تاریخی واقعہ بننے سے پہلے رسول کی عظمت کو مانا۔ ہم آج اس وعدہ کے تاریخی واقعہ بننے کے بعد رسول کی عظمت کو مان رہے ہیں۔ دونوں کے ماننے میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایک کو دوسرے سے کوئی نسبت نہیں۔ آج ایک غیر مسلم محقق بھی پیغمبر اسلام کو تاریخ کا سب سے بڑا انسان کہنے پر مجبور ہے مگر آپ کی زندگی میں آپ کی عظمت کو پہچاننا اتنا مشکل تھا کہ صرف وہی لوگ اس کو پہچان سکتے تھے جن کو خدا کی طرف سے خصوصی توفیق ملی ہو۔ قرآن کو دور نزاع میں اپنانا سیرت کی کتابوں میں صحابہ کا دعوتی طریقہ یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ قرآن کے نازل شدہ حصہ کو لے لیتے اور اس کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سناتے تھے (وَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ وَتَلَا عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ) طبقات ابن سعد، جلد 1، صفحہ 170۔ چنانچہ مدینہ میں جو صحابہ تبلیغ کے لیے گئے ان کو وہاں مقری (قرآن پڑھنے والا) کہا جاتا تھا (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 434)۔ یہ بات آج کے ماحول میں بظاہر انوکھی معلوم نہیں ہوتی۔ لیکن اگر چودہ سو سال کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader