قرآن کو دورِ نزاع میں اپنانا
Urdu book, p. 279
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ کو حذف کرکے آپ اسلام کے ابتدائی دور میں پہنچ جائیں اور اس وقت کے حالات میں اسے دیکھیں تو یہ اتنا انوکھا واقعہ معلوم ہوگا کہ نہ اس سے پہلے وہ کبھی جماعتی سطح پر پیش آیا اور نہ اس کے بعد۔ آج جب ہم لفظ’’قرآن‘‘ بولتے ہیں تو یہ ہمارے لیے ایک ایسی عظیم کتاب کا نام ہوتا ہے جس نے چودہ صدیوں میں اپنی عظمت کو اس طرح مسلّم کیا ہے کہ آج کروڑوں انسان اس کو خدا کی کتاب ماننے پر مجبور ہیں۔ آج اپنے آپ کو قرآن سے منسوب کرنا کسی آدمی کے لیے فخر و اعزاز کی بات بن چکی ہے۔ مگر زمانہ نزول میں لوگوں کے نزدیک اس کی یہ حیثیت نہ تھی۔ عرب میں بہت سے لوگ تھے جو یہ کہتے تھے کہ محمدؐ نے پرانے زمانہ کے قصے کہانیوں کو جوڑ کر ایک کتاب بنالی ہے۔ ہم چاہیں تو ہم بھی ایسی ایک کتاب بنا لیں : لَوْ نَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَذَا إِنْ هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (الانفال، 31) ۔ کوئی قرآن میں تکرار کو دیکھ کر کہتا کہ یہ کوئی خاص کتاب نہیں۔ محمدؐ کے پاس بس چند باتیں ہیں، انہیں کو وہ صبح شام دہراتے رہتے ہیں: وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا (25:5) ۔ ایسی حالت میں قرآن کو پہچاننا گو یا مستقبل میں ظاہر ہونے والے واقعہ کو حال میں دیکھنا تھا۔ یہ ایک چھپی ہوئی حقیقت کو اس کے ثابت شدہ بننے سے پہلے پالینا تھا۔ پھر ایسے وقت میں قرآن کو کتاب دعوت بنا لینا اور بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ کیونکہ اس کے لیے اپنی عظمت کو کھو کر دوسرے کی عظمت میں گم ہونا پڑتا ہے۔ یہ اپنے مقابلہ میں دوسری شخصیت کا اعتراف کرنا ہے، اور وہ بھی ایسی شخصیت کا جس کی حیثیت ابھی مسلّم نہ ہوئی ہو۔ عرب کے مشہور شاعر لبید نے اسلام قبول کیا اور شاعری چھوڑ دی۔ کسی نے پوچھا کہ تم نے شاعری کیوں چھوڑ دی ۔ لبید نے کہا: ابعد القرآن (کیا قرآن کے بعد بھی)۔ آج کوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader